پہلا دسمبر اور ناصر کاظمی سے سامنا۔۔۔۔۔

یوں تو بارہا ایسی کیفیت کا سامنا رہا کہ کوئی غزل یا گانا، یا ان کا کوئی ایک حصہ ذہنی و قلبی کیفیت سے میچ کرگیا اور اسے مسلسل ریپیٹ پہ لگا کہ گھنٹوں سنا،،، مگر کبھی ایسا نہی ہوا کہ کوئی غزل یا گانا تین روز تک اپنے اثر میں لیے رکھے ۔۔۔ شائد یہ موسم کا اثر ہے یا پھر شاعری میں کوئی جادو ہے جس نے اپنے سحر میں لے لیا ہے ۔۔۔۔ 
آج تین دن ہوچکے اور اس دوران فرصت کےلمحات میں بس یہی الفاظ میرے کاموں میں گونج رہے ہیں کہ
” غم ہے یا خوشی ہےتو
میری زندگی ہے تو”

دسمبر کی خشک مزاجی اور اداسی اپنی جگہ
مگر ناصرکاظمی کا “درد” بھی اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔
دسمبر تو پہلے بھی گزرے مگر اس کیفیت کے ساتھ دسمبر کا الگ مزا ہے۔۔ شائد یہی وہ دسمبر ہے جس کو لیکر اس بارے ہزار باتیں بنارکھی ہیں ۔۔۔۔ اگر ایسا ہے تو پھر شائد یہ میرا پہلا دسمبر ہے ۔۔۔۔۔ اور یہ اس دسمبر سے مختلف ہے جس سے مجھے محبت تھی۔۔ دھندلا اور میٹھا سا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
یہ سخت اور اداس سا دسمبرمیرا دسمبر نہی ہے ، مگر ناصر کاظمی یہاں بھی حوصلہ دیتے ہیں کہ 
“آفتوں کے دور میں
چین کی گھڑی ہے تو”

خالی دسمبر شائد کسی کے لیے اتنا اہمیت کا حامل نہ ہوتا اگر شاعر حضرات نے کشش ثقل کے بعد اہم ترین “کشش محبوب” دریافت نہ کی ہوتی ۔۔۔ اور دریافت بھی ایسی سائنسی کہ جو ہراصول کو رد کرتی ہوئی گرمیوں میں سکڑتی اور سردیوں میں پھیلتی ہو۔۔۔ پھیلاو بھی اتنا کہ شاعر بےاختیار کہہ اٹھے کہ
“میری رات کا چراغ
میری نیند بھی ہےتو “

دسمبر کی ایک اور بری بات اس میں یادوں کا “ہالووین” ہے ۔۔۔ جو عشق نہی بھی کیا ہوتا وہ بھی پوری شدت سے یاد آنے لگتا ہے ۔۔ جیسے سنتے ہیں کہ فلاں پیشے یا فلاں شخص کو بزرگ کی بددعا ہے ویسے ہی لگتا ہے کہ اس موسم کو بھی شائد کسی کی بددعا ہے کہ ہر کسی کو بےسبب اداسی دے جاتا ہےیا غم ۔۔۔۔ ثبوت کےطور پہ یہی دیکھ لیں کہ سب سے زیادہ شادیاں بھی اسی موسم میں ہوتی ہیں۔۔ اور جن کی پہلے ہوچکی ہوتی ہیں ان کا حال حسب ذیل ہوتا ہے
“روٹھنے کا سبب تو تم جانو
ہم تو مصروف ہیں منانے میں”

خیر بات کہاں سے چلی تھی اور کہاں تک پہنچ گئی ۔۔ میں تو بس یہی بتانا چاہتا تھا کہ یہ میرا پہلا دسمبر ہے اور اب سے لگتا ہے کہ 
“غم ہے یا خوشی ہے تو
میری زندگی ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💝”
(اہم ترین نوٹ: بندہ نہ ناکام عاشق ہے نہ ہی کچھ پئیے ہوئے ہے بلکہ ایک عدد شادی شدہ نو-جوان ہے۔۔۔یہ کیفیت خالصتا شاعری بنیادوں پہ ہے جس میں شاعر ڈھکے چھپے الفاظ میں اپنےجذبات کےاظہار کے ساتھ ساتھ اپنے فارغ وقت کوگزارنے کی کوشش کررہاہے۔باقی کوئی حسینہ اس میں سے اپنے مطلب کا مطلب نکال لائے اور “ریکارڈ” لگانا چاہے تو بندہ لاچار ہے پھر)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s