قوانین کی پاسداری کیجئے

پاکستان دنیاکےان ممالک میں شامل ہے جہاں قانون کی پاسداری یاعملداری کم ترین سطح پہ ہے ۔۔۔ اعلی طبقے  سے لیکر عوام تک ، قانون کااحترام اور اس پہ عمل کرنا شائد اخلاقی قدروں کے منافی سمجھا جاتا ہے ۔۔ قانون توڑنا اسٹیٹس سمبل یا طاقت کے اظہار کا ذریعہ مانا جانے لگا ہے ۔۔ ایسے معاشرے میں کہ جہاں تعلیمی اداروں میں تربیت کا فقدان ہے وہاں قانون کی پاسداری جیسے عنصر کے پنپنے کی شرح کم سے کم ہوتی جاتی ہے ۔۔ہمارے ملک میں تو ایک اور بھی مزیداری ہے کہ یہاں قوانین بنائے ہی توڑنے کےلیے جاتے ہیں ۔۔ جی ہاں توڑنے کےلیے ۔۔۔

آپ شائد حیران ہورہے ہونگے کہ یہ کیا بات ہوئی کہ جب عمل نہی کرنا یا کرانا تو قانون بنانے کا کیا فائدہ وغیرہ وغیرہ ،،لیکن یہی حقیقت ہے کہ اس ملک میں قوانین بنائے ہی توڑنے کےلیے جاتے ہیں ۔۔ میری بات کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ یہاں قوانین بنانے والےاور عوام کےدرمیاں موجود طبقاتی، نفسیاتی و ذہنی فاصلے کے علاوہ رشوت خوری جیسے ناسور کو “اہلکار کی بنیادی ضرورت” مان لینے جیسے عوامل نے “قانون  کی وقعت “ختم کرکے رکھ دی ہے ۔۔۔ہوتا یہ ہے کہ پرتعیش زندگی گزارنےوالے طبقے کے بیرون ملک سے تعلیم یافتہ لاکھوں کمانے(اوپرکی کمائی کےعلاوہ) والے افراد جب قانون بنانے بیٹھتے ہیں تو پھر ایسے ہی شاہکار تشکیل پاتے ہیں جن کو توڑنا ان کے ماننے سے زیادہ آسان ہوتا ہے ۔۔۔۔

ہمارے ملک کی ایک بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں قوانین اسمبلیوں میں بنتے نہی محض منظور ہوتے ہیں وگرنہ قانون شکنی کی شرح یہ ہرگز نہ ہوتی ۔۔۔ خیر مدعے کی طرف آتے ہیں ،، یہ تحریر لکھنے کاخیال موجودہ  قانون شکنی کی نئی لہر چلنے کےبعد آیا ہے ،، یہ لہر ہیلمٹ  پہننے کی پابندی کی صورت میں جاری ہے ۔۔ میں دماغ پہ زور ڈالوں تو شائد پہلی مرتبہ مشرف کےدور میں ہیلمٹ  کی پابندی کی بازگشت سنی (ویسے تو ضیادور میں بھی ایک مرتبہ ہیلمٹ کی پابندی کی لہرچلی تھی، مگرتب مابدولت وقوع پذیر نہ ہوئے تھے )۔۔۔اس کی زیادہ تفصیلات کا علم تو نہیں کہ راقم تب بلوغت کے عالمی معیار تک نہ پہنچے تھے،مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ہیلمٹ پہننے والوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہ ہوپایا تھا وگرنہ محض دو تین برس بعد ہی وہ لہر دوبارہ نہ چلانی پڑتی ۔۔ خیر غالبا دوہزار تیرہ یا چودہ میں ایک مرتبہ ایک ایسی ہی لہر کےدوران راقم نے کافی مضحکہ خیز مناظر بھی دیکھے جو قانون کی عملداری تودور الٹا شرمندگی کا باعث بننے لگے ۔۔ قانون پہ عملداری کی اس لہر کے دوران عوام الناس کو سروں پہ بالٹیاں، ہانڈی ، حتی کہ تربوز کے چھلکے رکھ کر “قانون پسندی” کا مظاہرہ کرتے دیکھااور ریکارڈ کیاگیا۔۔۔ کم و بیش ایسے ہی مناظر اس مرتبہ بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ عوام پلاسٹک کی ٹوکریاں اور کان کنی میں استعمال ہونے والے ہیلمٹ استعمال کرتے نظر آرہے ہیں ۔۔۔ ایسا کیوں ہے ؟؟؟؟ اس کی وجہ صرف و صرف قانون بنانےوالوں  اور پھر اس پر عمل کرانے والوں کی نااہلی ہے ۔۔۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں کرپشن ایک ناسور سے زیادہ ایک  ٹرینڈ کےطور پہ قبول عام پاچکا ہو ،وہاں ایک دم سے بغیرکسی پیش بندی کےایسے قوانین کا اطلاق شہریوں کو قانون شکنی پہ ابھارنے سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔۔ ایسے میں جب ہیلمٹ  کی پابندی بارے سخت وارننگ  جاری کرنے پہ کروڑوں کےتشہیری اخراجات اٹھائے جارہے ہوں ،وہاں کچھ اخراجات پہلے سے موجود اس عملے کو متحرک کرنے بارے بھی اٹھالیے جائیں جس نے مصنوعی گرانی اور ذخیراندوزں کےخلاف کارروائی کرکے عوام کو ریلیف دینا ہوتا ہے ۔۔۔ماضی میں بھی ،اور اب بھی ،،،ہیلمٹ کی پابندی کا قانون نافذ ہوتے ہی مارکیٹ میں موجود ہیلمٹ چار سے چھ گناتک مہنگے ہوگئے ۔۔ اس کا براہ راست اثر غریب عوام کے بجٹ پہ پڑا جو پہلے سے ہی بڑا ٹائٹ ہوتا ہے ۔۔ ایسے میں نیا خرچہ ان کےلیے کسی عذاب سے کم نہیں ۔۔ اور لامحالہ انہیں یا تو قانون شکنی کی جانب جانا پڑے گا یا پھر وہ  تربوز کے چھلکے پہننے جیسے مضحکہ خیز قدم اٹھائیں گے ۔۔۔

اگر حکومت صرف پیسے بٹورنے کی بجائے واقعی قانون کی عملداری  چاہتی ہے توموجودہ حالات کےتناظر میں  چند تجاویزعرض کیے دیتے ہیں ۔۔

ٹریفک وارڈنز چالان کرنے کی بجائے اسی رقم کے عوض ہیلمٹ فراہم کریں تو دوہرا فائدہ حاصل ہو ۔۔۔اس کےلیے یہ ممکن ہے کہ جہاں جہاں ناکے لگائے گئے ہوں وہاں ہیلمٹ رکھےہوں یا وہاں سے قریبی سیکٹر میں ہیلمٹ موجود ہوں اور چالان دہندہ  ایک ہزار روپے کی رسید کےعوض  ہیلمٹ حاصل کرسکے ۔۔

ڈرائیونگ لائسنس کےلیے مخصوص مقامات  اور مخصوص اوقات کی پابندی سے ہٹ  کر ،ہرسیکٹرمیں ڈیسک قائم کیے جانے چاہیے جہاں سے کوئی بھی آتے جاتے وقت لائسنس بنوانے میں دقت محسوس نہ کرے ۔۔۔اسی حوالے سے بنیادی قدم کے طور پہ تعلیمی اداروں میں ماہانہ بنیادوں پہ وزٹ کرکے  لیکچرز دئیے جائیں اور درخواستیں جمع کی جائیں ۔۔ یہی طلبہ آنےوالے وقت کےباشعور ڈرائیور بنیں گے ۔۔۔

چالان میں رقم کے ساتھ ساتھ پوائنٹس سسٹم بھی شروع کیاجائے اور خاص حد تک نیگٹو پوائنٹس والے ڈرائیورز کو بلیک لسٹ قرار دیدیاجائے ۔۔ اگر وہ دوبارہ سڑکوں پہ آئیں تو انہیں قیدوجرمانہ جیسی سخت سزائیں دینے سے بھی گریز نہ کیاجائے ۔۔ ٹریفک کےسدھار اور حادثات کی روک تھام میں یہ اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے ۔۔

کم عمرڈرائیورزکو ایک مرتبہ وارننگ ،جبکہ دوبارہ ڈرائیونگ کی صورت میں والد کو سزا دی جائے ۔۔ اس سلسلے میں گاڑی/موٹرسائیکل کو قیدجیسی سزا بھی متعارف کرائی جانی چاہیے ۔۔۔ اس سے بھی حادثات میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے ۔۔۔

امیدہے کہ مندرجہ بالا تجاویز کےعلاوہ بھی محکمے میں موجود افسران کےپاس ہزارہاتجاویز موجودہونگی جن کی مدد سے قوانین پہ عملدرآمد کو آسان اور ممکن بنایاجاسکتا ہے 

دو اکتوبرکےروزنامہ آفتاب میں شائع کردہ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s