دماغ ۔۔۔ کائنات کی پیچیدہ تخلیق

انسان اس کائنات کی سب سے بہترین تخلیق ہے جس کو تمام چرند پرندوحیوانات پہ فوقیت حاصل ہے اور یہ امتیاز اسے صرف و صرف دماغ کی وجہ سے ملا ہے ۔۔ کائنات کی پیچیدہ ترین تخلیق انسانی دماغ کو قراردیاجاتا ہے ۔۔سپیری تھیوری کے مطابق دماغ کے دو حصے ہیں جو خیالات سے لیکر تمام افعال تک کو کنٹرول کرتے ہیں ۔۔ دماغ کا ایک حصہ (اوپری )یاداشتوں یا دیکھی گئی چیزوں کو جمع کرنے کےکام آتا ہے جبکہ دوسرا (نچلا) حصہ بھوک، حرکت،خون کی گردش، حرارت کی باقاعدگی سمیت ہاتھ پاوں سے جڑے تمام افعال کو براہ راست کنٹرول کرتا ہے ۔۔۔ انسانی بچے کی پیدائش کے وقت اس کا دماغ جسم کی کمیت کا بارہ فیصد تک ہوتا ہے جو کے باقی جانداروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ۔ انسان کا اوسط دماغی وزن 1375 گرام ہوتا ہے ۔جبکہ عورت کا دماغ اوسط 1225گرام ہوتا ہے ۔۔۔ انسانی دماغ کے حجم کا اس کی کارکردگی پہ براہ راست کوئی اثر نہی البتہ سائنسدان بڑے دماغ کو چھوٹے کے مقابلے زیادہ بہتر تصور کرتے ہیں ۔۔ تاہم اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ وہیل مچھلی اور ہاتھی کا دماغ انسان کے مقابلے زیادہ بہتر ہے ،،، “سوچنےسمجھنے “کا فرق بہرحال موجود ہے ۔۔ بجلی جیسے اہم ایجاد انسانی دماغ سے مستعارلی گئی ہے ۔۔یعنی کہ بجلی کا تصورانسانی دماغ میں موجود برقی لہروں سے لیا گیاہے جو دماغ کی فعالیت کےلیے بنیادہیں ۔۔ایک انسانی دماغ تقریبا بیس بلین نیورونز پہ مشتمل ہوتا ہے ۔۔ یاداشت کو سٹور کرنے سے لیکر افعال کی انجام دہی تک کی یہ برقی لہرہیں انہی عصبی خلیوں سے ہی ترتیب پاتی ہیں ۔ انسانی دماغ ایک کمپیوٹر کی نسبت معلومات کی گنجانیت میں دس ہزار گنا بڑا ہوتا ہے ،اور تقریبااتنی فیصد ہی اس پہ عمل کے معاملے میں تیزرفتار بھی ۔۔ انسانی دماغ کے اندر چھوٹے چھوٹے برقی سرکٹ ہوتے ہیں جس کے اندر انسانی افعال خصوصا ردعمل چھپے ہیں ۔ ۔مطلب کہ کسی بھی حرکت پہ ہونے والے بےاختیار ردعمل کی شروعات یہیاں سےہی ہوتی ہے۔۔ جسے سادہ ترین الفاظ میں ہم “ہاں یا ناں ” کی تھیوری کہہ سکتے ہیں ۔۔ یعنی کہ اگر اپ کو کسی نوعیت کی سرگرمی سے واسطہ پڑتا ہے تو اس کےنتیجے میں ہونے والا ردعمل انہی برقی سرکٹس کی وجہ سے ہوتا ہے ۔۔۔ اسے اپ ذہانت کی بنیاد بھی کہہ سکتے ہیں ۔۔ ان کی فعالیت کی بنیاد پہ اپ کی ذہانت کا معیار طے ہوتا ہے ۔۔ انسانی جسم کی تغیرات خلا سے آنے والی تابکاری شعاعوں کے باعث ہوتے ہیں ۔۔ یہی تغیر دراصل ارتقا کا خام مال ہے ۔۔۔ یہ ارتقاانسانی کروموسوم کے افزائشی حصہ دار خلیوں پہ تابکاری شعاعوں کےاثر کےباعث پیدا ہوتے ہیں ۔۔ اور اس تغیر میں سب سے زیادہ حصہ دماغ کا ہے ۔۔ یعنی انسانی جسم کی بجائے سب سے زیادہ تبدیلی انسانی دماغ نے قبول کی ہے ۔ اپنےارتقا سے لیکر اب تک تمام جانداروں کا دماغ پرورش پاتے ہوئے حجم میں بڑھا ہے ۔۔۔اس کا براہ راست تعلق انسانی تمدنی و معاشرتی ارتقا سے ہے ۔۔۔ سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ دانشورانہ تجربات ،یا مسلسل اکتسابی عمل کے ذریعے دماغ کی فعالیت بڑھائی جاسکتی ہے حتی کہ سوچ کے زاوئیے تک بدلے جاسکتے ہیں ۔۔۔۔ یہ عمل چھوٹے بچے سے لیکر ایک بزرگ تک میں کیاجاسکتا ہے ۔۔سیکھنے کے عمل سے دماغ کے اندر نئی اعصابی شاخیں تک نمو پانے لگتی ہیں ۔۔ یعنی دماغ اپنے وسعت کا عمل خود ہی شروع کرسکتا ہے ۔۔انسانی دماغ کی وسعت اس کائنات کو تسخیرکرلینے کےلیے کافی ہے اگر اسے استعمال  کیا جائے تو ۔۔۔۔
یہ صرف تمہید تھی ، اب آتے ہیں اصل بات کی جانب ، اور بات یہ ہے کہ اس قدر اعلی و ارفع تخلیق کا حامل ہونے کےباوجود بھی حیرت ہے کہ حضرت انسان ابھی تک کرپٹ اور چور وں کو رہنما مانتے اور ان کےلیے  آپس میں لڑتے مرتے بھی ہیں ۔۔حیرت ہے۔
روزنامہ آفتاب میں شائع شدہ
دانش ڈاٹ پی کے پہ شائع شدہ
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s