جس کھیت سے میسرنہ ہو دہقان کو روزی

گزشتہ دنوں اپنے ماموں زاد بھائی کے ہمراہ لاہورسےباہر سفرکرنے کا اتفاق ہوا ۔۔ طویل عرصے بعد جیسے ہی سگیاں پل عبورکیا تو حیرت کا سامنا کرنا پڑا کہ وہاں موجود اکا دکا باغ بھی اب ختم ہوچکے تھے ۔۔ ماضی میں یہ علاقہ لیچی ، جامن ، امردو اوراسی نوعیت کے باغات اور سبزی کی کھیتی باڑی کےلیے مشہورتھا۔۔ مگر اب کنکریٹ کی کھڑی فصلوں نے سگیاں پل کی سرسبزشناخت کو بدل کررکھ دیاہے ۔۔۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی کل زمین کا تقریبا سینتالیس فیصد زرعی زمین پہ مشتمل ہے ۔ بدقسمتی سے اس میں سے قابل کاشت زمین کی تعدادبہت کم ہے ۔۔۔ اسی ملین ایکڑ میں سے صرف اکیس ملین ایکڑ ہی قابل کاشت رقبہ ہے ۔۔اوروہ بھی اب بہت تیزی سے کم ہوتا جارہاہے ۔۔۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود اس شعبے کا ملکی پیداوار میں حصہ محض بیس اعشاریہ نوفیصد ہے ۔ پاکستان کی زراعت کو پانی کی کمی ،سیم و تھور اور دریائی کٹاو سے بھی زیادہ خطرہ اس وقت ہاوسنگ سوسائٹی مافیا سے ہے ۔۔۔ ہاوسنگ سوسائٹی مافیا تیزی سے شہروں کے اردگرد موجود زرعی زمینوں کو نگل رہاہے ۔۔ زرعی علاقوں میں جس تیزی سے زمینیں دریائی پانی کاشکارہورہی ہیں اس سے کہیں زیادہ رفتارسے ہاؤسنگ سوسائٹیاں یہ زمینیں نگل رہی ہیں ۔۔۔ کوئی ہفتہ ایسا نہیں جب پاکستان کےکسی چھوٹےبڑے شہرمیں کوئی جدیدیاقدیم قسم کی ہاؤسنگ سوسائٹی کےسنگ بنیادرکھنے کی خبر نہ آتی ہو۔۔۔ٹی وی چینل اور اخبارات ان رہائشی سکیموں کے اشہتارات سے بھرے نظرآتے ہیں ۔۔۔ شہروں کے قریب واقع زرعی زمینوں کوسستے داموں لیکرانہیں مرلوں کے حساب میں مہنگے داموں فروخت کرناایک نہایت منفعت بخش کام ہے ،مگرچند افرادکا یہ وقتی فائدہ آئندہ نسلوں کو گہرے نقصان میں ڈال رہا ہے ۔۔۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ آبادی میں اضافے کےساتھ اجناس کی طلب بڑھ رہی ہے ،مگر زیرکاشت رقبے میں کمی ہمیں غذائی ایمرجنسی کی جانب دھکیل رہی ہے۔۔۔رقبے میں کمی سے نہ صرف پیدوار کم ہورہی ،بلکہ اسی فصل کی درآمدکی صورت میں وہ مہنگے داموں مل رہی ہے اور زرمبادلہ کابڑا حصہ بھی اسی مد میں خرچ ہوگا۔۔۔اسی طرح کے سو مسائل اوربھی گنوائے جاسکتے ہیں۔۔مگر ہم صرف موٹی موٹی وجوہات کو سامنے رکھ کر اس کے سدباب کےحوالے سے بات کرتے ہیں ۔
زرعی زمینوں کےساتھ ہونے والی اس ڈکیتی کی براہ راست ذمہ داری حکومت کی عدم توجہی اور نااہلی پہ عائد ہوتی ہے ۔۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان ایسا ملک ہے جہاں تیزی سے شہری آبادی میں اضافہ ہورہاہے ۔۔ایک ریسرچ کے مطابق دوہزار تیس تک دو سوپچاس ملین پاکستانی شہروں میں رہائش پذیرہونگے ۔۔مگر حکومت کی جانب سے کبھی بھی اس شعبے کو سنجید ہ نہیں لیاگیا اور آج تک کسی بھی حکومت نے سرکاری سطح پہ ہاوسنگ پراجیکٹس شروع کرنے یا اربن پلاننگ بارے توجہ نہیں دی جس کا فائدہ پرائیویٹ سیکٹر نے اٹھایا ہے اور اب یہ باقاعدہ ایک مافیا کی شکل اختیار کرگئے ہیں ۔۔ تمام بنیادی سہولیات ،بہترین انفراسٹرکچر اور سکیورٹی وہ خصوصیات ہیں جن کےباعث عوام بھی تیزی سے سوسائیٹیز کی جانب راغب ہورہے ہیں ۔۔مگر ان سب میں نقصان ہمارے ملک کاہورہاہے ۔۔ مہنگے بیجوں ،کھادوں اور ڈیزل کےاخراجات کےبعدبمشکل چند ہزار بچاپانے والے کسان کو جب اس کی زمین کی مناسب قیمت ملتی ہے تو وہ اسے بیچنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتا اور خریدنے والے سونا اگلتی زمین کا گلا اسفالٹ اور کنکریٹ کے ذریعے گھونٹ کراسے بنجر بنادیتے ہیں ۔۔۔ اسی بنجر پن کی قیمت بطور قوم ہمیں بھگتنا پڑتی ہے اور مستقبل میں یہ عفریت پوری شدت کےساتھ ہمیں کھانے کےلیے موجود ہوگا۔۔

خیر ہزار باتوں کی ایک بات، اپنا مستقبل بچاناہے تو حکومت کو ہاوسنگ سیکٹر کوسنجیدہ لینا ہوگا،، ۔۔۔ حکومت کو اب خود اس شعبے میں قدم رکھ قوم کو اس مافیا کے چنگل سے نکالنا ہوگا (عمران خان کے پچاس لاکھ گھروں کےمنصوبےکےبعد قوی امید ہے کہ ایسا ہی ہونے جارہاہے )۔۔عوام و خواص سے بھی اپیل ہے کہ وہ اپنے اپنے پلیٹ فارم سے کوشش کریں کہ ہمارے دوراندیش قانون ساز لینڈمافیاکےخلاف میدان میں اتریں اور زرعی زمینوں پہ ہاوسنگ سوسائٹی نہ بنانے کے قوانین میں موجود سقم دور کریں اور ان پہ لازمی عمل بھی کرائیں ۔۔ ہوسکے تو اس حوالے سے ایک مانیٹرنگ ڈسک اور ٹاسک فورس بھی قائم کی جائے جو اپنی کارکردگی ماہانہ بنیادوں پہ صوبائی و قومی اسمبلیوں میں پیش کرے ۔۔۔ ۔ یہ تحریک ہمارے اوپرقرض ہے ،، ہم نے نہ بھرا تو آئندہ نسلوں کو ان کی استطاعت سے بڑھ کر ادا کرنا پڑے گا اور ہم ان کے مجرم ٹھہریں گے۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s