نوازشریف : خوش قسمت نااہل

پچیس دسمبر انیس سو انچاس کو ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے بھولے بھالے سے غیر سیاسی، میاں محمد نواز شریف مستقبل میں اس قدر اہم کامیابیاں سیمٹیں گے، یہ کسی نے سوچا تک نہ تھا۔۔۔ قانون کی تعلیم حاصل کرنے والےنواز شریف سترکی دہائی کے اواخر میں ملکی سیاست میں داخل ہوئے۔۔ انیس سو اکاسی میں ضیاالحق کی حکومت کےدوران پنجاب کے وزیر خزانہ بنے اور بعد ازاں وزارت اعلی کے منصب تک جا پہنچے۔۔۔ نوازشریف کو تین مرتبہ وزارت اعظمی ملی اور تینوں باروہ مدت پوری نہ کر پائے اور پہلے ہی رخصت کردئیے گئے۔

یہ پاکستان کی تاریخ کے خوش قسمت ترین سیاستدان قرار دیئے جاسکتے ہیں۔
۔۔۔ نوازشریف پہلی مرتبہ انیس سو نوے میں وزیراعظم بنے، مگر صدرفاروق خان لغاری سے اختلافات کے باعث وہ مدت پوری نہ کر پائے۔۔۔ پہلے صدر نے اسمبلی توڑی، جسے نوازشریف نے عدلیہ سے بحال کرالیا، تاہم 1993میں وہ ایک معاہدے کے تحت مستعفی ہونے پہ مجبور ہو گئے۔۔۔ دوسری مرتبہ فروری انیس سوستانوے میں نواز شریف ہیوی مینڈیٹ سے وزیر اعظم منتخب ہوئے جس کے خمار میں ایک مرتبہ پھر آرمی چیف سے تنازعہ کھڑا کر بیٹھے۔۔۔ مگر اس مرتبہ ان کاٹاکرا ایس ایس جی کمانڈو سے ہوا اور یہ مخاصمت انہیں لے ڈوبی۔۔۔

پرویز مشرف نے ان کا تختہ الٹ کر باگ دوڑسنبھال لی اور طیارہ سازش کیس کے تحت اٹک کی جیل میں بند کر دیا۔۔ جہاں میاں نواز شریف اور بیرکس کے مچھروں کےدرمیان محبت کی داستانیں آج تک مختلف محفلوں میں عبرت کےطور پہ سنائی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ انہیں طیارہ سازش کیس کےتحت معافی کا معاہدہ کرنا پڑا اور مرضی سے اپنے اہلخانہ سمیت ملک بدر ہوگئے۔۔۔

طویل جلاوطنی کے بعد 2007 میں سعودی عرب کےدباو کے بعد انہیں ایک مرتبہ پھر وطن واپسی نصیب ہوئی۔۔۔۔ نواز شریف پہ قسمت کی دیوی دوبارہ 2013 میں مہربان ہوئی اور وہ ایک مرتبہ پھر وزارت عظمی پہ متمکن ہوئے۔ تاہم سبق پھر نہ سیکھا۔۔۔۔ شومئی قسمت کہ اس مرتبہ انہیں عمران خان کی صورت سخت اپوزیشن کاسامنا بھی کرنا پڑا۔۔ اپنے کچھ اچھے کاموں کے باوجود بھی انہیں اپنی زندگی کی سب سے سخت اپوزیشن کاسامنا رہا کہ جس میں انہیں ہر محاذ پہ بدترین پسپائی اختیار کرنا پڑی۔۔۔ سونے پہ سہاگہ غیر ملکی صحافی کی جانب سے پانامہ کیس ان کی جان پہ عذاب کی صورت نازل ہوا۔۔۔۔جماعت اسلامی اورعمران خان کی جانب سے پانامہ میں آف شور کمپنیوں کےمعاملے کو عدالت لےجانے جیسا اقدام ان کی وزارت اعظمی کےخاتمے کاسبب بنا،، مگر سلسلہ یہیں تک موقوف نہ رہا بلکہ اس مرتبہ عدلیہ کی جانب سے انہیں مسلم لیگ ن کی صدارت سے نااہل قرار دیکران کےسیاسی کیئریر پہ سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔۔۔۔

بلاشبہ نواز شریف صاحب پاکستان کی تاریخ کے واحد سیاستدان ہیں جو خوش قسمت ہونے کے باوجود خود کو مسلسل نااہل ثابت کرتے ہوئے تین بار ایوان اقتدار سے باہر ہوئے۔

خوش قسمتی کب اہلیت کا متبادل ہوتی ہے۔

http://daanish.pk/20775 دانش ڈاٹ پی کے پہ اکیس فروری کو شائع شدہ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s