کیساسکیورٹی لیپس؟؟؟؟

17فروری 2014کوپولیس لائنزقلعہ گجرسنگھ پرخودکش حملےکی کوشش ناکام بنادی گئی،،ایک حملہ آورنےناکامی پرخودکواڑالیاجبکہ اس کےمبینہ دوساتھی فرارہوگئے۔۔۔ میڈیاپرخبرنشرہوتےہی چاروں جانب سےحکومتی ناکامی،ادارہ جاتی نااہلی،اورسکیورٹی لیپس کی گردانیں شروع ہوگئیں۔۔۔ پرائےتوپرائےصوبائی وزیرداخلہ نےبھی چھوٹتےساتھ ہی بیان داغ ڈالا کہ یہ واقعہ سکیورٹی لیپس کی وجہ سے پیش آیا۔۔ اگرہم تھوڑی سمجھ بوجھ کامظاہرہ کریں اور میڈیاپرنشرواخبارپرچھپنےوالی خبروں کاتجزیہ کریں توکوئی ناسمجھ بھی باآسانی کہہ سکتاہے کہ یہ حملہ سکیورٹی لیپس کےباعث کامیاب نہیں بلکہ بہترین سکیورٹی کی وجہ سے ناکام ہواہے ۔۔۔۔۔ میڈیااطلاعات کےمطابق دہشتگردکافی دیرسےوہاں موجودتھااورکسی صورت اندرداخلےکی کوشش میں تھالیکن سکیورٹی کے باعث اسےناکامی کاسامناکرناپڑا۔۔۔ وہ ایک مرتبہ قریب آکرپلٹا اوردوبارہ قریب آیاتوعمارت پرتعینات سنائپرزنےاس کےمذموم عزائم کوبھانپتےہوئےہوائی فائرکیےجس پروہ ڈرکربھاگا،اورپوری طرح ناکامی سے بچنےکےلیےخودکواڑالیا۔۔اس حملےمیں5افرادشہیدجبکہ 29زخمی ہوئےہیں۔حکام کوچاہیےکہ وہ ہوشیاری دکھانےوالےاہلکاروں کوشاباش دیں نہ کےپورےسکیورٹی لیپس بول کرپوری قوم کو ڈی مورالائز کریں۔۔ یہ تعدادبہت زیادہ ہوسکتی تھی اگروہ پولیس لائنزکےاندرگھس کریہ کارروائی کرتا۔۔۔۔۔۔ یہاں تک توبات ہوگئی سکیورٹی لیپس یاسکیورٹی کی مضبوطی کی۔۔۔ اب ایک اورپہلوکودیکھاجائےتولگتاہےحملہ آورکواندرونی مددحاصل تھی۔۔۔ کیوں کہ عینی شاہدین اورپولیس اہلکاروں کے مطابق حملہ آوربےچینی سےکسی کاانتظارکررہاتھا،اوروہ شخصیت یقیناًڈی آئی جی آپریشنزحیدراشرف تھےجواس وقت پولیس لائنزمیں موجودتھے۔۔ دہشتگردپولیس لائنزسےکچھ فاصلےپرکھڑاتھا،،،جس وقت ڈی آئی جی آپریشنزکاکاررواں روانگی کےلیےتیارہوا ٹھیک اسی وقت وہ حملہ آوربھی بڑی بےچینی سےبھاگتاہوا گیٹ کےقریب آنےلگا۔۔۔۔ حیدراشرف کی خوش قسمتی کہ وہ ایک ماتحت کوہدایات دینےکےلیےرک گئےجس سےان کی روانگی میں تاخیرہوٓئی اور اسی اثناءمیں اورباہرتعینات سنائپرزکی ہوشیاری نےایک بڑےسانحےکوٹال دیا۔۔۔
پولیس لائنزحملےمیں سکیورٹی لیپس کوچھوڑکراس پہلوپرتفتیش کی جانی چاہیےکہ حملہ آورکاخفیہ مددگارکون ہے؟ حملہ آور کو کس کی ہدایات کاانتظارتھا؟؟؟ وہ ٹھیک اسی وقت گیٹ کےپاس کیسےآیاجب ڈی آئی جی کی گاڑی نےنکلناتھا؟؟؟؟؟ اگرحسب سابق ان پہلوؤں کو مدنظرنہ رکھاگیاتو آج نہیں تو کل یہ حملہ پولیس لائنزکےگیٹ پرنہیں بلکہ پولیس لائنزکےاندرہوگا ۔۔۔اورتب شائدہم لفظ سکیورٹی لیپس کہنےمیں بھی شرمندگی محسوس کرینگے

(فروری 2014 میں لکھی گئی تحریر)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s