کمرشل صحافت

عزیز دوست اور درویش صحافی سید بدرسعید نے ایجنڈا سیٹنگ کے حوالے سے بہت خوبصورت تحریر لکھی جس میں بتایا گیا کہ اپنی دانست میں ایجنڈا سیٹنگ اور فریمنگ کرنے والےمیڈیا ہاوسز دراصل اس نام کے تلفظ سے زیادہ کچھ نہی جانتے ۔۔۔ مجھے یہ تحریر دیکھ کہ گزشتہ دنوں لکھی گئی اپنی ایک تحریر یاد آگئی جس میں احمد نورانی نامی صحافی کو ایک مقدس کی بجائے نوکری پیشہ شخص قرار دیا تھا ۔۔۔ ہمارے بہت ہی محترم ڈاکٹر مہدی حسن صاحب نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں ان خیالات کا اظہار کیا کہ پاکستانی میڈیا ایجنڈا سیٹنگ کرنے جیسی تیکنیک سے تاحال محروم ہے ۔۔۔
اور یہ بات بالکل سامنے کی ہےکہ اپ کو ایجنڈا سیٹنگ کرنے والےچینلز کو پہچاننے میں دو منٹ بھی نہی لگیں گے ۔۔۔ فریمنگ اور پراپیگنڈا ٹولز کے استعمال سے ناوقفیت یا پھر یوں کہیں کہ جلدبازی اور جہالت کے مکسچر سے ہمارے چینلز کسی بھی ایجنڈا پہ چلنے کی کوشش کریں تو دومنٹ میں ہی ننگے ہوجاتے ہیں ۔۔۔ ہمارے میڈیا میں اب تو واضح طور پہ لیفٹ اور رائٹ کی طرز پہ دو گروہ بن چکے ہیں جو کھلم کھلا اپنے اپنے مفادات کےلیے الگ الگ سکول آف تھاٹ کو پروموٹ/تحفظ دیتے نظر آتے ہیں۔۔۔ یہ ہونا دراصل ہمارے لیے بدقسمتی کے مترادف ہے، یعنی کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا نوزائیدہ میڈیا بلوغت کو تو کیا پہنچتا،الٹا اپنا توازن کھو کر ہمارے لیے “خصوصی بچہ” بن بیٹھا ہے ۔۔ اور اس خصوصی بچے کی کسی بھی حرکت کا نتیجہ ہمیں کس قدر سنگین بھگتنا پڑتا ہے اسے اپ اجمل قصاب کے کیس میں دیکھ ہی چکے ہیں
ان سب برائیوں کی وجہ بس ایک ہی ہے اور وہ ہےصحافت کا انڈسٹری بننا اور صحافی کا کمرشل ہونا ۔۔۔
جب تعلیم فروش سے لیکر گھی فروش
سنار سے لیکر سگریٹ فروش تک لوگ صحافت اور میڈیا کو ٹیک اوور کرلینگے تو پھر اپ کو بھی ان سے ذمہ دارانہ صحافت کی توقع نہیں رکھنی چاہیے ۔۔۔ ان کے ادارے فیکٹریان ہونگے اور ان میں کام کرنے والے وہ کلرک ہونگے جن کا کام بس احکامات کی بجاآوری ہوگا ۔۔ چاہے وہ کچھ بھی ہوں ۔۔۔۔
عزیزان وطن یہ صحافت کمرشل صحافت ہے۔۔ اس کا اس صحافت سے کوئی لینا دینا نہی جو اپ کتابوں میں پڑھتے اور سنتے ہیں ۔۔۔۔
جب تک ہم اس حقیقت کو تسلیم نہی کرتے ہم اس مسئلے کا سدباب کرنے کے قابل نہی ہوسکتے۔۔۔ صحافت بچانی ہے تو اس سیٹھ مافیا کو اس دے باہر نکالنا اور صحافتی تجربے کےبغیر کسی کو چینل کی اجازت نہ دینے جیسے سخت فیصلے کرنے ہونگے ۔۔ اور ہاں کارکن صحافیوں کا اپنا ادارہ بھی اس وقت کی اہم ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔اس کےبغیر کمرشل صحافت ہی ہمارے سر چڑھ کہ ناچے گی اور ہم دنیابھر میں رسوا ہونگے۔۔۔۔۔
#معاشرتی_علوم
(از حسن تیمورجکھڑ)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s