صحافی برائے فروخت

صحافت والےاس ریاست کوچلانے اورسنبھالےرکھنے کےلیے  چوتھا ستون گردانتے ہیں اوراس پیشے کےتقدس کو لیکردرجنوں باتیں پھیلاتے ہیں۔۔ مگر میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اس پیشے کو کسی اورپیشے کی طرح منافع کاذریعہ ہی پایا ہے(کئی لحاظ سے یہ دوسرے پیشوں سے بدتر ہےکہ اس میں منافع کےلیے اپنی پرائے کی تمیزختم، ملکی مفاد ،سچ کو جھوٹ یاجھوٹ کو سچ بھی بنادیاجاتاہے)۔۔ اس میڈیامنڈی کےبیوپاریوں کوصرف منافع سے غرض ہے چاہے اس کےلیے اسے سچ کےدودھ میں جھوٹ کا پانی ملانا پڑے ۔۔ یا اخلاقیات کی اجناس میں بداخلاقی کےپتھرشامل کرنے پڑیں۔۔

اس انڈسٹری پہ بات کرتے ہوئے میں اس کو دوحصوں میں تقسم کرنا چاہوں گا۔۔ ایک حصہ اس کابیرونی تاثر، جبکہ دوسرا اس کی اندرونی حالت ہے

اس صنعت کا بیرونی تاثر ایک بےحدمضبوط اور دانشورانہ اورڈسپلنڈ شعبے کے طورپہ کرایاجاتا ہے ،،،عوام کی اکثریت اسےاپنا سہارا،میسحا سمجھتی ہے ۔۔اس شعبے کو زیادہ ادائیگی کرنے والا شعبہ بھی سمجھاجاتا ہے  (چند مخصوص صحافیوں/اینکرز کی وجہ سے شائد)۔

جبکہ اندرونی حالت اس کےبیرونی تاثر کے برعکس ہے ۔۔ یہاں زیادہ ترتعداداپنے عہدوں پہ مس فٹ افراد کی ہے،جبکہ قابل افراد عمومی طور کھینچاتانی کا شکار،کھڈےلائن لگے کم تنخواہوں کی شکایت کرتے نظرآتے ہیں ۔۔۔انتظامی نااہلیاں ایک الگ مسئلہ ہے ،، ۔پیسہ بچانے کےلیے کالجزکےنوآموزلڑکےلڑکیوں سےکام لینے کاطریقہ بھی خاصا مستعمل ہے ۔۔تقریبا سبھی چینلز،اخبارات ہی ہروقت افرادی قوت کی کمی کابھی شکار رہتے ہیں ۔۔ یعنی ایک ایک فرد سےدگنا کام لینے کی روایت بھی اس انڈسٹری کی ایک خاص پہچان ہے ۔۔۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ اس انڈسٹری پہ کسی قسم کےلیبرلاز بھی لاگو نہیں ہوتے(یا نہیں کرنے دیئے جاتے)۔ بےپناہ فوائد اور منافع سمیٹنے کے باوجود بھی یہ اس صنعت کے مالکان تھوڑے سے پیسے کےلیے خود کو(صحافت کو) بیچنے سے گریز نہیں کرتے ۔۔ یعنی ان کے اوپر یہ محاورہ صادق آتا ہے کہ پانچوں انگلیاں گھی  میں اور سرکڑاہی میں

اس تحریر کی تحریک  سوشل میڈیاپہ وائرل ایک پیغام کے باعث پیدا ہونےوالی مایوسی کے باعث پیدا ہوئی ۔۔۔۔۔۔ سوشل میڈیاپہ ان دنوں ایک سینئرصحافی سیدذیشان گیلانی صاحب کاخود کو گروی رکھنے کا پیغام خاصاوائرل ہے۔ ذیشان گیلانی بیس برس سےاس شعبہ سے وابستہ ہیں اور ایک نہایت کم عہدہ سے شروع ہوکراپنی محنت اور لیاقت کےبل بوتے پہ ایک اچھی ادارے کی اہم نشست پہ براجمان ہیں ۔۔ اتنے برس میں ذیشان گیلانی نے اپنی محنت سے اوپرکی جانب ہی سفرکیاہےاور ایک معمولی ادارے کےکمپیوٹرآپریٹرسے شروع کردہ اپنے سفر کو ایک اچھےبڑے ادارے کےرن ڈاون پروڈیوسر/شفٹ انچارج تک لے آئے ہیں۔۔وہ اس فیلڈمیں ایک اچھے عہدے پہ حامل ہے اور اس صنعت کےبیرونی تاثر کے مطابق قیاس ہے کہ تنخواہ بھی اچھی پاتے ہونگے۔۔

آج کل ذیشان گیلانی اپنی اہلیہ کےحوالے سے خاصے فکرمند ہیں جنہیں کینسرتشخیص ہوا ہے اور مرض ابھی اپنی ابتدائی سطح پہ ہے ۔۔ صرف کینسر کی تشخیص کرتے کراتے ہی وہ اپنی تمام جمع پونجی سے محروم ہوچکے ہیں،جبکہ ابھی مکمل علاج کا مرحلہ باقی ہے جس کے اخراجات پندرہ سے بیس لاکھ بتائے جاتے ہیں ۔۔

اس صنعت کےایک اچھے ادارے کی اچھی پوسٹ پہ موجود ایک صحافی کی معاشی حالت یہ ہے کہ وہ اتنے برس کی سروس کےبعد بھی اتنی جمع پونچی نہیں جوڑسکا کہ اپنی اہلیہ کےعلاج کاخرچہ برداشت کرسکے،توسوچیئےباقیوں کا کیاحال ہوگا۔۔حالانکہ یہ صنعت(میڈیامنڈی اربوں روپے سالانہ کمانے والی انڈسٹری ہے)۔۔۔۔ایسا نہیں کہ ہرصحافی اتناغریب اور بے بس ہو،اس شعبے کےکچھ لوگ اتنے کامیاب اورخوشحال ہیں کہ نظیرنہیں ملتی ۔۔ ان کی طاقت کااندازہ اس بات لگایاجاسکتا ہے کہ وہ پیچیدہ سے پیچیدہ قانونی مسائل کوچٹکیوں میں حل کرنے،سفارتی پالیسیاں ترتیب دینے،حکومتوں کی تبدیلی سے لیکر قیامت لانے تک جاپہنچے ہیں ۔۔ جن کی ماہانہ تنخواہ پورے پورے نیوزروم کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہوتی ہیں۔۔ جن کو مہیاکی گئی سہولیات کا بل ہی اکثر کسی دوسرے ڈیپارٹمنٹ کےمجموعی اخراجات سے بھی بڑھ جاتا ہے ۔۔۔مگرعمومی دیکھا جائے تو اس شعبے کے کارکنوں کی حالت  مزدوروں کی طرح پتلی ہی رہتی ہے ۔۔ اس شعبے میں نہ ریٹائرمنٹ ہے نہ ہی جاب سکیورٹی،،،اس شعبے میں تنخواہیں بھی (عمومی طورپہ،خواص کوچھوڑکر) اتنی نہیں کہ فی زمانہ یہ کسی کومتمول طرز زندگی مہیا کرسکے۔۔

ایسے میں ایک صحافی کاانفرادی حیثیت میں خود کو بیچنے کااعلان اس انڈسٹری خصوصا ان کےاپنے چینل کےمالکان کے منہ پہ طمانچہ ہے ۔۔

اس صحافی کی اہلیہ کے مکمل علاج  کےلیے درکاررقم ان کے چینل کے ایک روز کی جائز کمائی سے بھی کم ہے لیکن پھربھی اربوں روپے کماچکے مالکان کی جانب سے انسانی جان بچانے اور اپنے ورکرکی مشکل دورکرنے کی یہ کوشش نہیں کی جائیگی ۔۔ایسے میں ہم میڈیاورکرز ذیشان گیلانی کےلیے محض دعا ہی کرسکتے ہیں کہ اللہ انے چینل کے مالکان کےدل میں رحم پیدا کرے یا پھر کسی مخیر شخص تک ان کی فریاد ہی پہنچا دے ۔۔۔۔ہم تو صرف ان کےلیے دعا ہی کرسکتے ہیں ۔۔۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s