مرعوب نسل

اچھے وقتوں کی بات ہے. لاہور کے پوش علاقے میں ایک بڑی کاروباری عمارت کے باہر ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے پروقار میاں بیوی لڑ جھگڑ رہے تھے، اردرگرد مصروف لوگوں کا خاصا ہجوم تھا، جبکہ وقت کی قلت کے باعث سو کی سپیڈ سے سواری بھگانے والے بھی رک رک کر تماشا دیکھ رہے تھے۔ بیوی شوہر کو کہہ رہی تھی کہ آج تو گاڑی پہ ہی گھر جاؤں گی ورنہ یہیں سڑک پہ بیٹھی رہوں گی۔ اچھا خاصا گریس فل شوہر بےچارہ باقاعدہ طور پہ منتیں کر رہا تھا کہ بیگم گھر چلو، گھر بیٹھ کر بات کرتے ہیں،گاڑی پسند کر تو لی ہے، بس کچھ روز میں مل بھی جائے گی۔ مگر بیوی بھی باقاعدہ ضد پہ اڑی تھی اور کہہ رہی تھی کہ آج ہی پسند کی ہے تو آج ہی لے کر جاؤں گی۔ راہگیر مرعوب کھڑے دیکھ رہے تھے اور معاملہ تھا کہ سنگین تر ہوتا جا رہا تھا۔ خیر قصہ مختصر، چند بزرگوں نے بیچ بچاؤ کرایا اور بمشکل بیوی کو راضی کیا کہ وہ آج موٹرسائیکل پہ چلی جائے اور چند روز میں گاڑی مل جائے گی۔ خیر بیوی راضی ہوئی تو معاملہ پیش آیا بائیک چلانے کا، اس وقت شوہر صاحب کو علم ہوا کہ ان کی تو چابیاں بھی کہیں کھوگئی ہیں، اور وائر لاک توڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ معاملے کی نزاکت دیکھتے ہوئے راہگیروں نے مدد کرتے ہوئے خود تالے توڑے، بائیک سٹارٹ کی اور میاں بیوی کو رخصت کیا۔ تھوڑا وقت گزرا تو بالکل اسی جگہ پر دوبارہ مجمع لگا تھا اور ایک شخص چیخ چیخ کر کہہ رہاتھا کہ اس کی بائیک کوئی چرا کر لے گیا۔ باقی معاملہ یقینا آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے.

بالکل ٹھیک اسی طرح ہم جاگیرداروں، وڈیروں، صنتعکاروں، بدکاروں اور بےکاروں (بدمعاشوں) کی طاقت اور پیسے سےمرعوب ہو کر انہیں اپنے مستقبل کا والی وارث بنا دیتے ہیں۔ ہم محض مرعوبیت میں چور، ڈاکو، لٹیرے کو بھی راہبر مان لیتے ہیں، اور وہ راہبر آپ کی مدد سے آپ کے پیسے چرا کر خود پانامہ، دبئی، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور فرانس پہنچ جاتے ہیں۔ یہ مرعوبیت زیادہ تر فریق اول کے خوف، اسلحے اور اس کی بدمعاشی جبکہ فریق دوم کی جہالت کے بدلے ہوتی ہے۔ شرافت، دیانت اور لیاقت کو تو کمزوروی و بےوقوفی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ملک کا نظام بھی کمال ہے کہ چور بھی چور چور کہتا ہے۔ یہاں منتخب قومی نمائندے اپنی غلطیوں کوتاہیوں پر بھی ایسی ڈھٹائی سے بات کرتے ہیں کہ جیسے یہ غلطی موصوف سے نہیں بلکہ سوال کرنے والے سے ہوئی۔

یہ تحریر لکھنے کی تحریک ایک تصویر اور ایک لائن کی خبر پڑھنے کے بعد پیدا ہوئی، جس میں مرعوبیوں نے لگ بھگ تیس سال سے ایک صوبے پر قابض جماعت کا اس بات پر شکریہ ادا کیا کہ ان کے اتنے بڑے شہر میں بالآخر 140 بستر کا ہسپتال معرض وجود میں لے آیا گیا ہے (غالبا وہ شہر تین سے چار لاکھ آبادی والا ہے)۔ ایسے بیانات خصوصا الیکشن کے دنوں میں تواتر سے سننے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ بڑے بڑے میگا پراجیکٹس کا یا تو اعلان کیا جا رہا ہوتا ہے یا پھر ان کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہوتا ہے۔

رہنما یا قائد تو ایسا ہونا چاہیے جس کا وژن ایک عام آدمی کی نسبت وسیع اور مضبوط ہو۔ اس میں مسائل کے ادراک اور اس کےحل کی صلاحیت ہو۔ مگر یہاں کیا ہوتا ہے کہ بنیادی ترین مسائل پہ بھی قبلہ قائدین کو بارہا منت ترلہ کر کے خود یاد کرانا پڑتا ہے، اور قائد بھی ایسےگھاگ کہ ایک الیکشن اعلان اور دوسرا تعمیر کے بہانے جیت لیا جاتا ہے، چاہے وہ معاملہ چھوٹا سا اور کچھ ہفتوں میں حل ہونے والا ہی کیوں نہ ہو۔ ابھی کچھ روز پہلے ہی وزیراعظم نے 1988ء میں اعلان کردہ اپنے منصوبے کا حسب سابق ایک مرتبہ پھر سنگ بنیاد رکھ کر لیہ کے شیروں کو مزید مرعوب کر لیا۔ یہ اس حوالے سے عمدہ ترین مثال ہے۔

اس استحصالی نظام میں ہمیں غیرتعلیم یافتہ اور پسماندہ اسی لیے رکھا جاتا ہے کہ ہماری ذات کی نمو نہ ہو اور ہم کبھی مرعوبیت کے گھن چکر سے باہر نہ نکل پائیں۔ قیام پاکستان کےلگ بھگ کا ایک دلچسپ واقعہ ہے کہ سرکار کی جانب سے ایک علاقے میں سکول کی تعمیر منظور ہوئی تو وہاں کے جاگیردار نے مسئلہ کھڑا کر دیا۔ بالاخر پرتشدد کارروائیوں اور طویل مذاکرات کے بعد معاملہ طے پاگیا جس کے تحت مذکورہ زمیندار نے ذاتی خرچ سے وہ سکول اپنے مخالف زمیندار کے علاقے میں تعمیر کرا دیا۔ یعنی اپنے تئیں ایک تیر سے دو شکار کر لیے.

قائد اور لیڈر کے نام پر چور ڈاکو کو سپورٹ کرتے کرتے اپنے پرائے کی تمیز بھی بھلا دی جاتی ہے۔ اپنا قومی مفاد تو شاید نہ پتہ لگے، مگر یہ مرعوب ذہن قائد کےگھر کے کتے کو بھی شیر بنا کر دکھائیں گے اور باقاعدہ ہر غطی کی توجیح پیش کرنا اپنا فرض سمجھیں گے. گھر کی سبزی لینے جائیں تو عقل و دانش کا مرقع بن جانے والے یہ مرعوبیے اپنے حکمرانوں کے چناؤ کے وقت جہالت کا منبع ثابت ہوتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک جماعت کے سپورٹر نجی محفل میں بڑے فخر سے بتاتے پائے گئے کہ ان کے محبوب لیڈر کو ملکی سب سے بڑی عدالت کے جج بھی گاڈفادر مانتے ہیں۔

یہ مرعوب ذہنیت اور سوچ اب تک ہمارے معاشرے میں سرطان کی طرح پھیلی ہوئی ہے اور ہر سطح پر ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے۔ قوم کو زیادہ خطرہ ان چور، ٹھگ لٹیروں سے نہیں بلکہ ان مرعوبیوں سے ہے جو کچھ ماننے کو تیار نہیں، اور آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے سے بھی باز نہیں آتے۔ ملک میں انقلاب یا تبدیلی لانے کی بنیاد/اکائی انھی مرعوبیوں کے اذہان میں تبدیلی لانا ہے، یہی اصل انقلاب ہوگا.

 

یہ خبر دلیل ڈاٹ پی کے اور انڈیکیٹر نیوز پہ چھپ چکی ہے

https://daleel.pk/2017/05/12/42685

http://indicator.pk/2017/05/10/%D9%85%D8%B1%D8%B9%D9%88%D8%A8-%D9%86%D8%B3%D9%84-%D8%AD%D8%B3%D9%86-%D8%AA%DB%8C%D9%85%D9%88%D8%B1/

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s