ایثار سے ملاقات

سینئرصحافی ،کالم نگار،اینکرپرسن ،مدیراعلی۔۔۔۔ یہ چاروں الگ الگ ایسے القابات ہیں کہ جس کےساتھ جڑ جائیں اس کےانداز و اطوارمیں تبدیلی آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں رہتی ۔۔۔ بہت کم لوگ ہی ایسے ہونگے جوبیک وقت یہ چاروں القابات رکھتے ہوں اور ان میں سے بہت ہی کم ایسے ہونگے جو یہ القابات رکھنے کے باوجود بھی عوام میں اپنی عزت، پہچان برقرار رکھے ہوئے ہوں ۔۔۔ ۔۔۔ ایسے ہی ایک جوہرنایاب ایثار رانا ہیں۔۔ رانا صاحب سے میری ذاتی شناسائی نہیں اور میل ملاقات بھی بہت کم ہے ۔۔۔ پہلی مرتبہ ان سے ملاقات چاراپریل 2017کی شام پریس کلب میں ہوئی جہاں ان کے اعزازمیں شام منائی جارہی تھی ۔۔بطور ممبر لٹریری کمیٹی مجھے درویش سیدبدرسعید کی جانب سے حکم دیاگیا تھاکہ لازمی شرکت ہو،کچھ میرا بھی شوق تھا کہ میں بھی ایثار رانا کی شخصیت کو دیکھوں ۔۔۔۔۔اس ملاقات میں ایثار رانا صاحب کی زندگی کی بہت سے پرتوں کو جاننے کا موقع ملا،تاہم پھر بھی جسے باقاعدہ ملاقات کہتے ہیں وہ پہلو تشنہ رہا۔۔۔ میری خوش قسمتی کہ یہ کمی جلد ہی عزیز جیلانی دوست اسحاق جیلانی نے پوری کردی اور اپنی جانب سے دی گئی ایثار رانا صاحب کی سالگر کی دعوت میں چند سینئردوستوں کے ساتھ مجھے بھی مدعو کرلیا۔۔۔ ملاقات میں فنکشنل لیگ کے رہنما اور قومی اردوزبان تحریک کاحصہ عزیزظفرآزاد صاحب،کالم نگارہ عمرانہ مشتاق صاحبہ،فیچر رائٹرمحمداکرم،حسیب اعجاز عاشر،درویش صحافی سید بدرسعید، کالم نگارعدنان عالم، افتخار خان ،محترمہ ملیحہ سیدہ سمیت دیگر احباب نے شرکت کی ۔۔اس تقریب میں شرکت کا مقصدایثاررانا صاحب کی سالگرہ کا کیک کاٹنے سے بڑھ کر ان کی شخصیت کےبارے میں جاننا تھا جس حوالے سے یہ تقریب خاصی کامیاب رہی ۔۔۔ ایثار راناکے بقول انہوں نےابتدائی زندگی بہت چھوٹے پیمانے سے شروع کی ۔۔۔ اخبار فروش کی حیثیت سے اس صنعت سے وابستہ ہوئے اور اپنی قابلیت،محنت،عجزوانکسار کی بدولت اس شعبے کے سب سے اعلی مناصب تک آپہنچے ہیں ۔۔ ایثار رانا صاحب کی خاص بات ان کےحاصل کردہ مناصب نہیں،بلکہ ان مناصب پہ ایک ورکر کا پہنچنا ہے ۔۔ ایثار رانا صاحب کے نام کے دونوں حصے ہی ان کی شخصیت کو مکمل بیان کرتے ہیں ۔۔۔۔ ایثار ،جیسا کے نام سے ہی ظاہر ہے قربانیاں دینے والے شخص ہیں،،اور پہلی قربانی غالبااپنی پیدائش سے بھی پہلے دی جب ان کے آبا ہندوستان میں ہنستے بستے گھرچھوڑ کرپاکستان پہنچے ۔۔ یہاں سے قربانیوں کو وہ سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے ۔۔ پہلی قربانی ان کے آبا کی جانب سے کسی قسم کا کلیم نہ کرنا تھا،دوسری قربانی کسی پہ انحصار کرتے ہوئے پورا پیٹ بھرنے کی بجائے خود اپنے زوربازوس کماکر آدھا پیٹ بھرنے کی تھی ۔۔ اس کےبعد جیسے جیسے مدارج بڑھتے گئے قربانی کی نوعیت بھی تبدیل ہوئی ۔۔ اعلی مناصب سنبھالے توسب کچھ خودسمیٹنے کی بجائے ورکرکو فائدہ پہنچانے جیسی قربانی تو ان کی پہچان ہی بن گئی ۔۔۔۔یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور امید ہے ہمیشہ جاری رہے گا۔۔ ان کے نام کا دوسرا حصہ رانا ہے ۔۔۔ رانا یعنی راجپوت ۔۔۔۔۔۔۔ راجپوت بڑی آن ،بان،شان والے اور ضدی مشہور ہیں۔۔ یہ اپنی عزت پہ کوئی سودا نہیں کرتے ۔۔۔ بالکل ایسے ہی سنا ہے کہ رانا صاحب نے کبھی عزت پہ کمپرومائز نہیں کیا۔۔۔ جب کبھی ایسی بات ہوئی ہمیشہ نوکری چھوڑنے کو ترجیح دی ۔۔۔ اور سنا ہے اس معاملے میں کافی اچھا سکور رکھتے ہیں۔۔۔ ایسے منکسرالمزاج شخص جواتنے بڑے عہدے پہ ہوتے ہوئے بھی ہم ایسے چھوٹے موٹے ورکرز کےساتھ گھل مل جائے،یقین اسی عزت کا مستحق بھی ہے ۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ مجھے ان کی خوشی میں شریک ہونے کا موقع ملا،،اور اک امید بھی ہے کہ اب آئندہ ان سے ملاقاتیں رہیں گی تاکہ اپنی شخصیت میں ان سےے کچھ مثبت عادات مستعار لے سکوں ۔۔۔۔

 

http://universalurdupost.com/blog/14-04-2017/48021

یونیورسل اردوپوسٹ پہ شائع شدہ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s