ڈیفنس بلاسٹ

رد الفساد کا۔آغاز ہی فساد سے ہوا ہے۔۔ پنجاب میں دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن کا اعلان تو آرمی نے کیا ہے مگر اسے شروع شرپسندوں نے کردیا ہے ۔۔۔ مال روڈ دھماکے کی گونج تھمی نہ تھی کہ لاہور کے سخت سکیورٹ والے پوش علاقے ڈیفنس میں ملکی و غیرملکی برانڈز کی آوٹ لٹس کی حامل مارکیٹ میں دھماکہ کردیاگیا۔۔ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کی دھجیاں بکھرنے کے بعد جب ہاتھ کھڑے کیے تو حسب معمول ملک کے واحد مضبوط (وسائل کے لحاظسے) ادارے کو ہی میدان عمل میں اترنا پڑا ۔۔۔ آپریشن رد الفساد ان فسادیوں کے خلاف شروع کیا گیاہے جن کی روزی روٹی جنگ و جدل سے چلتی ہے ۔۔ یہ لوگ دنیا بھرمیں کسی بھی خگہ لڑنے کو تیار رہتے ہیں ۔۔ کہیں یہ زبان کی بنیاد پہ لڑنے کا ڈرامہ کرتے ہیں تو کہیں قوم کی بنیاد پہ۔۔۔ کہیں ان کی آڑ مذہب بنتا ہے تو کہیں یہ سیاست کا نام لیتے ہیں ۔۔مگر اصل میں یہ لوگ پیسے کے لیے لڑنے والے لوگ ہیں اور جنگ و جدل ان کا دھندہ ہے (افغان اور روس سے آزاد ہونے والی ریاستوں کے کچھ حصے)۔ ان فسادیوں کو دنیا میں تقریبا ہرجگہ ہی خاطر خواہ کامیابی ملےی رہی ہے اور یہ آسانی سے اپنا دھندہ سرانجام دیتے آئے ہیں ۔۔ مگر پاک دھرتی پہ یہ دھندہ ان کے لیے خاصا گندا رہا ہے کہ ان کا مقابلہ اپنے گھر کے شیروں سے رہا ہے۔۔ ہوم گراونڈ پہ اچھا ٹریک ریکارڈ رکھنے والی (3 دفعہ ملک فتح کرنے اور ایک دفعہ کامیابی سے دوحصےکرنےکااعزاز رکھتی ہے فوج) فورس نے ان دہشتگردوں کی اپنی ضرب عضب سے کمر توڑ کہ رکھ دی۔۔سوشل میڈیا پہ دنیا کی نمبر ون فوج کےاس کارنامے نے ہر اس شخص کو اس کا دشمن بنادیا ہے جو مملکت خدا داد کابیری ہے ۔۔ سو اس لیے ان کرائے کے قاتلوں کا اصل ہدف بھی پاک فوج ہی ٹھہری ۔۔۔ اب جب یہ ٹوٹی کمر والے دہشتگرد اس ملک سے خاتمے کے قریب ہیں تو آخری کوشش کے طور پہ انہوں نے آپریشن غازی کا اعلان کیا ہے۔۔ اس آپریشن میں اپنے غیرملکی آقاوں کے ساتھ ساتھ انہی مقامی دوستوں کا تعاون بھی حاصل ہے جس کی ڈائریکٹ کڑیاں اقتدار کےچھوٹے ایوانوں کے راستے بڑے اہوان تک جاتی ہیں۔ اور پاک فوج تو ان کی بھی دشمن ہے سو ان دونوں نے اس فورس کو سبق سکھانے کے لیے باقاعدہ طور پہ اسی کونشانہ بنانے کاعمل شروع کررکھا ہے ۔۔ بلوچستان,سندھ اور کےپی کے کے بعد اب پنجاب میں بھی فوج کونشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے پوش علاقے میں ہونے والے دھماکے میں فورسز کو ہی نشانہ بنایا گیا تھا ,تاہم ہلاکتوں کے حوالے سے تصدیق نہ ہوسکی ۔۔۔ دھماکے کے بعد میڈیا پر پہلے اسے جنریٹر دھماکہ اور بعد میں کسی کیمیکل کی کارستانی قرار دینے کی بھی کوشش کی گئی ۔۔۔۔ تاہم جلد ہی مادر پدر آزار میڈیا نے 8 10 سویلین لاشیں ڈھونڈ نکالیں۔۔ اگر اس واقعہ کابغور جائزہ لیں تو یہ سوچ کر خاصی حیرانگی ہوتی ہے کہ اس علاقے تک اتنا بارودی مواد (25 کلو) پہنچا کیسے وہ بھی باآسانی, پھر نشانہ نھی مبینہ طور پہ فوجی بنے ۔۔ یہاں اس دیرینہ شبے کو تقویت ملتی ہے کہ شرپسندوں کو اندرونی حمایت حاصل ہے ۔۔ اور جب گھر کا بھیدی بلکہ کتی ہی چوروں سے ملی ہوئی ہو تو پھر “ڈیفنس بلاسٹ” تو ہونا ہی ہے ۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s