جنگل ۔۔۔۔درندے اور بندر

کسی جنگل کابادشاہ شیرمرگیا۔۔۔ اس کےبعد سب جانور اکٹھے ہوئے اور متفقہ طور پر ایک متحرک قسم کے بندر کو بادشاہ بنادیا۔۔۔ بادشاہ نے بھی تمام رعایا کی موجودگی میں جنگل کی حفاظت کا حلف لیا۔۔۔ خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ کچھ ہی روز بعد جنگل میں ساتھ کے جنگل سے کچھ درندے  گھس آئے اور معصوم جانوروں کا شکار شروع کردیا۔۔ فوری طور پر اس امر کی اطلاع بادشاہ سلامت کو دی گئی جنہوں نے جنگل کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔۔۔ بادشاہ سلامت فوری طور پر متحرک ہوئے اور اپنی قیام گاہ سے  نکل کردوسرے درخت پہ چڑھ گئے ،،پھر دوسرے سے تیسرے پہ کودے ،وہاں سے چوتھے درخت  پہ جاچڑھے ۔۔اسی  اچھل کود کےدوران درندے اپنا کام کرکے واپس نکل لیے ۔۔ کچھ امن ہوا تو سب جانور اکٹھے ہوکر بادشاہ سلامت کےپاس پہنچنے اور ان سے ان کے حلف بارے استفسار کیا ۔۔۔ اس پہ  بادشاہ سلامت نے وہ تاریخی جملہ بولا  جو رہتی دنیاتک کے تمام بندروں کی بقا کی ضمانت بن گیا ۔۔۔۔سنہری حروف سے لکھے جانے والے الفاظ کچھ یوں تھے کہ‘‘کوشش توبڑی کی تھی لیکن آگے جو اللہ کی مرضی‘‘۔۔۔

یہ اللہ کی مرضی بھی انگریزی کے لفظ سوری کی طرح مجرب نسخہ ہے جس کا بروقت استعمال بڑی سے بڑی مشکل صورتحال سے اپ کو یوں نکال لیتا ہے جیسے ‘‘دودھ میں سے مکھی ’’کو نکالاجاتا ہے ۔۔

 

بات اس جنگل سے نکل کر دوسرے جنگل کی جانب بڑھتی ہے ۔۔۔

قانون کی بالادستی  اور انصاف کی موجودگی کے بغیر معاشرے جنگل ہی ہوا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔

پاکستان بھی ایسا ہی ایک جنگل ہے ۔۔۔۔جس پہ حکومت  بھی شیر کی ہے ۔۔۔ اور حفاظت  کی ذمہ داری بندروں پہ ہے

 

لاہور،پشاور اورکوئٹہ میں دھماکوں اور فاٹا میں پولیٹکیل ایجنٹ کےدفتر پہ دہشتگردوں کے کامیاب حملوں کے بعد ملک بھرمیں سکیورٹی اداروں کی ‘‘اچھل کود‘‘ جاری ہے ۔۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہے ۔۔ ہر مرتبہ ہی ایسے حملوں کے بعد‘‘ٹوٹی کمر ’’ والے بھاگتے ہوئے دہشتگردوں  کی کمر مزید توڑدی جاتی ہے ۔۔ ۔۔ ایسے کسی بھی حملے کےاگلے روز یا اگلے ہفتے کے دوران دس بیس ‘‘خطرناک دہشتگرد ’’بھی کیفر کردار تک پہنچادئے جاتے ہیں (حاسدین اکثرانہیں پہلے سے پکڑے گئے چور،قاتل اور ڈکیت قراردیتے ہیں)۔ سکیورٹی ادارے ایسی بروقت اور کامیاب کارروائی کرتے ہیں کہ لگتا ہے اب کہ ملک میں کوئی دہشتگردباقی نہیں رہا۔ ہر مرتبہ ہی سیاستدان  ہار نہ ماننے اور ڈٹ کرلڑنے  اور کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔(حالانکہ وہ قربانی دیتے بھی نہیں  )۔۔ کچھ وقت گزرتا ہے تو سب اچھا کی رپورٹ پیش کی جانے لگتی ہے ۔۔ اور ٹھیک اسی وقت ‘‘ٹوٹی کمروالے’’ جانے کہاں سے آتے ہیں اور سب کے سامنے ہی اپنا کام آسانی سے کرکےان کے منہ پہ کالک پوت دیتے ہیں ۔۔ اور ایک مرتبہ پھر سے وہی ‘‘اچھل کود’’ شروع ہوجاتی ہے ۔اورآگے پھر اللہ کی مرضی۔

دکھ اس بات کا ہے کہ جنگل کے باسی درندوں کاشکار بنتے ہیں،ظلم سہتے ہیں اور وایلا بھی کرتے ہیں ۔۔مگر وہ راستے بند نہیں کرتے جن سے وہ درندے ان کے گھر میں گھستے ہیں ۔۔ یہ قبروں پر تو مٹی ڈالتے ہیں مگر  ان گڑھوں کو نہیں بھرتے جن سے نکل کر وہ درندے  ظلم ڈھاتے ہیں۔ یہ ان تمام وجوہات پہ غور نہیں کرتے ،ان کا سدباب نہیں کرتے جن کی وجہ سے وہ درندے باآسانی انہیں شکار بنالیتے ہیں ۔۔۔

یہ اپنے حکمران چنتے وقت خود گدھے بن جاتے ہیں اور اس کےبعد سارا عرصہ  حکمرانوں کو‘‘گدھے کابچہ’’ قراردیتے پائے جاتے ہیں۔۔

یہ اپنی حفاظت کی ذمہ داری ان پر ڈالتے ہیں جو خود اپنی حفاظت کےلیے قلعےتعمیر کرنے پہ مجبور ہیں۔۔

یہ اپنے فرائض تو ادا نہیں کرتے مگر حقوق کی فکرمیں غلطاں وپیچاں رہتے ہیں ۔۔

تھوڑے سے ذاتی مفاد کےلیے بڑے قومی مفاد کوپیچھے پھینکنے والے یہ ‘‘الو’’ صحیح معنوں میں کرپٹ ‘‘شیروں ’’اور بے دماغ ‘‘بندروں’’ کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے مستحق ہیں ۔۔ کیوں کہ خدا بھی ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مددآپ کےاصول کومانتے ہیں۔۔۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s