انصاف

ہمارے ملک میں ادارے تیزی سے آزاد ہوتے چلے جارہے ہیں۔۔سیاستدانوں کو توروز اول سے ہی آزادی تھی ،لیکن اپنے بل بوتے پہ آزادی حاصل کرنے میں فوج ان سے سبقت لے گئی ۔۔۔ دوسرے نمبر پہ میڈیارہا جس نے قیام پاکستان کے تقریبا 50برس بعدآزادی دیکھی ۔۔۔۔ ریاست کا اہم ستون بھلاکہاں پیچھے رہنے والا تھا،سو موقع ملتے ہی عدالت عظمیٰ نے بھی آزادی کی تحریک چلائی اور کامیابی پا لی ۔۔۔۔۔۔اور آزادی پانے کے بعد پہلا اعلان انصاف کی بروقت فراہمی کا کیا ۔۔۔۔
سپریم کورٹ آف پاکستان ، لاہور ہائیکورٹ ، پشاور ہائیکورٹ، کوئہٹہ ہائیکورٹ، کراچی ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز نے حلف اٹھاتے ہوئے اس بات پہ زور دیا (اور دیتے ہیں) کہ وہ بھی اپنے پیشرؤں کی طرح انصاف کی بروقت فراہمی کےلیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرینگے ۔۔۔
اس بروقت اور معیاری انصاف کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں
20144 کاذکر ہے ۔۔ ترقی یافتہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے تیسرے بڑے شہر ملتان سےملحقہ جڑواں شہر مظفر گڑھ میں ایک خاتون کو انصاف کی ضرورت پڑگئی ۔۔ ہوا کچھ یوں کہ 18سالہ طالبہ آمنہ بی بی کو ایک شخص نے زیادتی کانشانہ بناڈالا ۔۔۔ اس نے بھی کہیں چیف جسٹس صاحبان کا یہ بیان سن رکھا تھا ۔۔سو نوعمرلڑکی اپنی زندگی لٹ جانے کاغم لیے تھانے پہنچی اور انصاف کی متقاضی ہوئی۔۔ مگر شائد تھانے والوں نے معزز جج صاحبان کا وہ بیان نہیں سنا تھا لہذا روایتی انداز سے تفتیش شروع ہوئی ۔گھنٹوں میں نمٹایاجانے والا معاملہ طول پکڑتے پکڑتے ہفتوں تک جا پہنچا جو بالاخر حسب معمول ملزم کو بےگناہ قراردینے پرجاکرختم ہوا۔۔۔
اس بروقت اور واقعی انصاف نے آمنہ بی بی کو اس قدر سرشار کیا کہ وہ تھانہ میرہزار خان کے باہرخودپرتیل چھڑک کر خودسوزی کرکے جشن منانے پر مجبور ہوگئی ۔۔۔
دوسرا واقعہ 20155 کا ہے ۔۔۔ مظفرگڑھ کےنواحی علاقے دین پورکےرہائشی مشتاق کی اہلیہ سونیابی بی کو تین اوباشوں نے درندگی کا نشانہ بناڈالا۔۔۔ وہ بےچارہ خاندان بھی اسی خوش فہمی میں تھاکہ اب انصاف بروقت ملتا ہے ۔۔سوتھانہ سٹی کےچکرلگنے شروع ہوئے ۔۔۔ جب جوتیاں بھی چٹخ گئیں تو انجام وہی نکلا جو آمنہ بی بی کی بارہوا کہ سونیا نے بھی بروقت انصاف دھمال ڈالتے ہوئے تھانے کے باہر خود سوزی کرلی ۔۔۔
مذکورہ بالا دونوں واقعات پر اس وقت کے وزیراعلی شہبازشریف نے فوری نوٹس لیا ۔۔ وہ متاثرہ خواتین کےگھر بھی گئے ،ان کی اشک شوئی کی اور تالیف قلب کےلیے مالی امداد بھی دی ۔۔ساتھ ہی ساتھ حکم صادر کیا کہ معاملے کی چھان بین کرکے بروقت اورمعیاری انصاف فراہم کیاجائے وہ بھی فی الفور۔۔۔۔۔ خیر دونوں بار اصل ملزمان تو پکڑے نہ گئے تاہم متعلقہ تھانیدار کچھ عرصے کےلیے معطل ضرور رہے ۔۔۔ سب کو لگا شائد اب انصاف فراہم کرنے والے ادارے راہ راست پرآگئے ہیں اور اب کوئی مظلوم خالی ہاھتھ نہ جائیگا۔۔۔
مگر ایک مرتبہ پھراس خبر نے انصاف کی فراہمی کےدعوؤں پر مہرتصدیق ثبت کردی ۔۔
مظفرگڑھ کے علاقے خان گڑھ میں پولیس کے نظام انصاف سے متاثر ہوکر ایک اور خاتون نے خودسوزی کرلی جو دس روز موت و حیات کی کشمکش میں رہ کر جاں بحق ہوگئی۔۔ خاتون شہناز بی بی کے شوہر اور اس کےچچا کا آپس میں تنازعہ چل رہا تھا ۔۔ شوہر عبدالرشیدکی درخواست دینے کے باوجود پولیس نے مقدمہ درج کرنے کی بجائے الٹا اسے حوالات بندکردیا ۔۔۔ اس پہ دلبرداشتہ ہوکر شہناز بی بی نے خود کو آگ لگالی تھی ۔۔
یہ سب واقعات ایک نہایت چھوٹے سے شہر کے ہیں ۔۔اس کے علاوہ انصاف کا انتظار کرتے کرتے زندگی کی بازی ہارنے والوں کی تعداد بھی اتنی ہے کہ اس کےلیے ایک الگ مضمون لکھنا پڑےگا ۔۔ماضی قریب میں ہی تین کیسز ایسے سامنے آچکے ہیں جن میں بےگناہ قرارپانے والے پہلے ہی اس دنیاسےسدھار چکے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔۔ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی کو جانتا ہے جو اسی انصاف کےلیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہوا بالاخر خود اس جہان فانی سے کوچ کرگیا ۔۔
حضرت علی ؓکا قول ہے کہ معاشرے کفر پہ چل سکتے ہیں ناانصافی پہ نہیں ۔۔۔ سو میں منتظر ہوں کہ کب ہم بطور معاشرہ قدرت کے انصاف کا شکار ہوکر اس دنیا سے ذلیل کرکے نکالے جاتے ہیں ۔۔ کیوں کہ اگر مخلوق خدا کو انصاف دینے کے معاملے میں ہم ہوش کے ناخن نہیں لیتے تو قدرت کا اپنا ایک میکانزم ہے اور یقین جانیے وہ انصاف دینے میں ذرا بھی بے ایمانی نہیں کرتا ۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s