آؤ سب ‘‘عبداللہ’’بنیں۔۔

یہ دنیااللہ تعالیٰ نے تخلیق کی۔۔

اس میں انسان اللہ تعالیٰ نے بسائے۔۔۔

انسان کو شناخت کےلیے قبیلوں میں اللہ تعالیٰ نے بانٹا۔۔۔

انسان کو سوچ اللہ تعالی نے دی۔۔۔

سوچ ترقی کی بنیادبنی،،،مدد اللہ تعالی نے کی ۔۔۔۔

ترقی ہوئی،توانسان نے جنگلوں کو شہربناڈالا،،وحشت اورجنوں کو تہذیب اورشعور سے مات دیدی۔۔۔شہرترقی کرتے کرتے پہلے ریاستیں بنیں،پھرملک  کہلائے ۔۔ہر ملک کسی ایک قوم یا کسی ایک زبان سے مخصوص ہوا۔۔

انہی ممالک میں ایک ملک ایسابھی ہے جومذہب کی بنیادپہ قائم ہوا۔۔۔مذہب بھی وہ جوانسانیت کادرس دیتاہے۔۔۔جو فلاح کا پیغام دیتا ہے ۔۔۔وہ مذہب جوریاست کو ماں قراردیتا ہے ۔۔ماں جس کی آغوش سب کےلیے جائے پناہ ہے۔اسلامی ریاست بھی ذمہ دار ہے اپنے بچوں(عوام) کی ہرطرح  کی ضروریات پوری کرنے کےلیے ۔۔۔ان کی خوراک،تعلیم،صحت اور رہائش سمیت ان کی حفاظت اور پرامن ماحول تک،یہ سب ریاست کی ذمہ داریوں میں آتا ہے ۔۔۔

مگر نہایت بدقسمتی کی بات ہے کہ اسلام کے نام پہ بنے اس ملک میں شائد اسلام کو وہ اہمیت ہی نہ ملی ۔۔دوسرا مسلسل نااہل وبدعنوان حکمرانوں کے نرغےمیں رہنے کےبعدیہ ملک شائد اپنے پاؤں پہ بھی کھڑا ہونے کےقابل نہیں ہوپایا کجایہ اپنےبچوں کوسنبھالے۔۔

یہ تحریر لکھنے کی تحریک دوست اورسینئرصحافی جناب مناظرعلی صاحب کاایک اخباری کالم پڑھنے کےبعد ہوئی،عنوان ہے‘‘ریاستی ومعاشرتی بےحسی۔۔کمسن عبداللہ کی داستان’’۔۔

تحریرمیں کمسن عبداللہ کی غربت سے جنگ اورتعلیم سےمحبت کوبیان کیاگیاہے ۔۔کس طرح وہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں شاہراؤں پر قلم فروخت کرکےعلم کاحصول ممکن بنارہاہے۔۔

تحریر پڑھنےکےبعدذہن میں سب سے پہلےجوخیال آیا وہ ریاست کی ذمہ داری کےبجائے خوداحتسابی کی جانب مائل کرگیا۔۔۔ مانا تعلیم ،صحت،روزگارکی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے ،مگر ہماری بدقسمتی یایوں بولیں ہماری جہالت  نے ہمیں نااہل و بدعنوان حکمران دئیے ہیں،اس لیے ریاست بھی بصورت مجموعی ایک کمزورادارہ ہے  ۔۔ہم حکمرانوں کو ضرور کوسیں،ان کو ضرور بدلیں مگر سب سےپہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے ۔۔

اگر حکمران چور ہیں توہم بھی شریف نہیں ۔۔ اگروہ نااہل ہیں توغافل ہم بھی کم نہیں۔۔اگر وہ  کوتاہ اندیش ہیں تو مفادمیں اندھے ہم بھی ہیں ۔۔ اگروہ غیرذمہ دارہیں تو اپنےفرائض سے بھاگتے ہم بھی ہیں ۔۔۔

ریاست ترقی نہیں کررہی تو اس میں قصوروارخالی حاکم ہی نہیں،بلکہ محکوم بھی ہیں۔۔۔وہ حقوق نہیں دے رہے توہم کونسا فرائض اداکررہے ہیں۔۔حکمرانوں کے چناؤ سے لیکرہرچھوٹے بڑےمعاملے میں ہم اپنے مفادات کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں نہ کہ ملک وقوم کےمفادیااللہ کےاحکامات کےتحت۔۔۔۔

اپنی کوتاہیوں ،غفلتوں،حرص و ہوس کے قصےلکھنےبیٹھوں توشائدکئی صفحےبھرے جائیں مگرپھربھی ذکرمکمل نہ ہوپائے۔۔ خیر یہاں موضوع مختصرہےلہذامدعے کی جانب بڑھتا ہوں۔۔

اسلام میں حقوق اللہ سے بھی زیادہ حقوق العبادپرزوردیاگیاہے،،حقوق اللہ کی معافی کاچانس موجود ہے لیکن حقوق العبادمیں کوتاہی کی تلافی ممکن نہیں ۔۔اسلام بہترین ضابطہ حیات ہےاوراس کواپناکرایک بہترین معاشرےکاقیام ممکن ہے ۔۔ یہی اسلام اپنےپیروکاروں کودرس دیتا ہے کہ وہ ہمسائیوں کاخیال رکھے،یتیم کی پرورش کرے،مجبورکی مددکرے اور بھوکےکاپیٹ بھرے ۔۔۔

مگرافسوس ہے کہ اسلام کےنام پرقائم ملک کےباسی شائدیہ سبق بھول چکےہیں۔۔۔ ایک قلیل تعداد اورچندمثالوں کے علاوہ مجموعی طورپربےحسی کی سی کیفیت طاری ہے ۔۔۔ نفسانفسی اورزیادہ سےزیادہ آسائشات کےحصول کےچکرنےانسان کومشین بناکررکھ دیا،،جذبات اوراحساسات  بےجاخواہشات کےبوجھ میں دب کررہ گئی ہیں۔۔

عبداللہ کی قلم سے یاری کا تذکرہ پڑھ کر بےساختہ اپنی (بطورمعاشرہ ) علم دوستی کاخیال آیا۔۔

کیا کروڑوں اربوں کے اثاثے رکھنے والےحضرات ایک معصوم کی خواہش پوری نہیں کرسکتے؟؟ کیااپنی بےتحاشاآمدن میں سے کچھ سکےنکال کر معصوم کی زیورتعلیم سےآراستہ نہیں کرسکتے ۔۔کیاہمارے معاشرے میں موجوددولت مندافراداپنےاردگردموجود حصول علم کے متلاشیوں کی پیاس نہیں بجھاسکتے؟؟؟؟؟

اللہ کافرمان ہے ‘‘انسان کےلیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے  ’’

ننھے عبداللہ کی تعلیم سے لگن اس کی خواہش ہے اور اس سلسلے میں محنت مزدوری اس کی کوشش۔۔۔۔

عبداللہ تو اپنےمعبود کاکہامان کر کوشش کررہا ہے ،،لیکن کیا اس پاک وطن کے دوسرے باسی بھی اپنے اللہ کاکہامان رہے ہیں؟؟

باقی چیزوں کوچھوڑیں صرف حقوق العبادکے زمرے میں ہی کیاہم اپنے اللہ کےاحکامات کو مانتے ہیں؟؟۔۔اس ملک کےرہنےوالے بےےشک مسلمان ضرور ہیں مگرشائد اللہ کے بندے نہیں ۔۔۔

میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیاہے کہ ہمیں حکمرانوں کی جانب دیکھنے کی بجائے اپنے چھوٹے موٹےمسائل کوحل کرنے کےلیے ‘‘کمیونٹی سسٹم’’ فعال کرنا  چاہیے ۔۔۔۔۔ ہمیں یونین کونسلزکی سطح پہ کمیونٹی سینٹربناکراپنی تعلیم،صحت اوردیگرمعاشرتی مسائل کےحل کےلیے لائحہ عمل بنانے ہونگے ۔۔ ہمیں کمیونٹی سکولنگ کوبھی فروغ دینا ہوگااور معاشرے میں موجود بےسہاراؤں کی کفالت کےلیے بھی مشترکہ فنڈزقائم کرنے ہونگے ۔۔ایسا کرکے ہم اپنے زیادہ ترمسائل خودحل کرنے کے قابل ہوجائیں گے ۔۔۔(یہ ایک تفصیلی موضوع ہے،اس پربات پھرکبھی سہی)

آؤ ننھےبچےکےلیے ہم بھی  میدان میں اتریں۔۔۔اپنے اردگرد پھیلے ایسے سینکڑوں عبداللہ کو ان کی منزل تک پہنچانے میں مدد کریں ۔۔۔

آؤ ہم سب‘‘عبداللہ’’ بنیں ۔۔۔

 

published on Daleel.pk

آؤ ہم سب’’عبداللہ ‘‘بنیں – حسن تیمور جکھڑ

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s