کیا ‘‘جماعت ’’واقعی ‘‘اسلامی ’’ہے؟؟

(پاکستانی بھائیوں کےلیےایک سوال،ایک مشورہ،ایک عرض)

جیسے حسن اور ذہانت کسی کی میراث نہیں ایسے منافقت اور لالچ اوردھوکےبازی  بھی کسی خاص فردیاجماعت کےلیے مخصوص کردینا ٹھیک بات نہیں ۔۔ویسے توہمارے ملک کےسیاسی نظام میں جھوٹ فریب اور موقع پر یوٹرن لینا‘‘کاروباری گر‘‘سمجھے اورہنسی خوشی قبول کیے جاتے ہیں ۔۔ویسے تو ہمارے ملک کی ہرجماعت خودکوان بیماریوں سے پاک اور اپنی مخالف جماعتوں کوان برائیوں کامنبع قراردیتی آئی اور دیتی رہتی ہے۔۔تاہم ا ن میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جودین کےاحیا،شریعت کے نفاذاور اسلامی ریاست کےقیام کاعلم تھامےخود کوایک ‘‘دھلی دھلائی شفاف’’جماعت قراردینےپر ڈھٹائی کی حدتک بضد ہے ۔۔

قیام پاکستان سے قبل اس کی مخالفت کرنےوالی جماعت،،،،1947کےبعدکچھ ایسےبدلی کہ ‘‘یوٹرن’’سے کم لقب ان کےلیے سمجھ نہیں آتا۔۔۔شائدیہی جماعت یوٹرن کی بانی بھی ہے ۔۔۔۔۔اسلام کے نام پہ بننے والے ملک میں اس جماعت کے نام لیوا جان نثاران کروڑوں میں نہیں تولاکھوں میں ضرورہیں،،ملک کا کوئی بھی ایسا حلقہ نہیں جہاں اس تنظیم کاڈھانچہ موجود نہ ہو۔۔۔اسلام کی نام لیوا ‘‘اسلامی جماعت ’’کےرہنما دیگرجماعتوں کی قیادت کےبرعکس پڑھےلکھےمدبراورعالم فاضل ہی بنتے آئے ہیں جو اس کا یک اورمثبت پوائنٹ ہے ۔۔اس کے علاوہ درجنوں باتیں اس کے حق میں اور بھی کی جاسکتی ہیں تاہم یہ تحریراس مقصدکےلیے بالکل نہیں کیوں کہ اس کام کےلیے پہلے ہی کافی لوگ دل وجان سے جتے ہوئے ہیں ۔۔۔۔

اس تحریر کامقصدمحض کچھ حقائق کو سامنے لانا اور یہ باورکرانا ہے کہ ‘‘پاک دھرتی ’’ کےسیاسی حمام خانے میں سبھی ‘‘ننگے’’ ہیں ۔۔بہت ساری باتیں تو نہیں البتہ کچھ واقعات بیان کرنا چاہوں گااوراجازت کاطلبگارہونگا ۔۔۔یہ واقعات بیان کرنا شائداس وقت بےحدضروری بھی ہیں کہ ‘‘اہل جماعت’’ بھی اس وقت اسی فوبیاکاشکارہوئے ہوئے ہیں جن کےباعث پٹواری اور یوتھئیے بدنام ہیں ۔۔ یعنی ۔۔۔۔۔اپنےمنہ میاں مٹھو۔۔۔۔۔

پہلاواقعہ ان کےسیاسی کردار اوراخلاقی اصولوں کے حوالے سے ۔۔۔۔۔

غالبا1998کی بات ہے ۔۔۔ امیرجماعت اسلامی اور نہایت باکردار،بااخلاق،اصول پسند اوراناوالے قاضی حسین احمدلاہورمیں ایک مظاہرے کی قیادت کررہے تھے ۔۔مظاہرہ تھابھی حسب معمول صاحب بہادرامریکہ کی کسی اسلام دشمن حرکت کےخلاف (ایسے مظاہرےجماعت کی جانب سے تواترسے کیے جاتے تھے)۔مظاہرین نے غالباًامریکی قونصل خانے کی طرف بڑھنے کی ‘‘ناپاک ’’کوشش کی تو ہماری اسلامی حکومت کی ’’غیرت وحمیت ‘‘بری طرح سے کانپ اٹھی (میرا مطلب ہے جاگ اٹھی)۔۔۔ مظاہرین پہ اندھادھند عوامی پیسےسے خریدے گئےآنسوگیس کےشیل تابڑتوڑبرسائے گئے ۔۔۔ چونکہ مظاہرےکی قیادت کرنےوالے بزرگ سیاستدان سب سے آگے تھےاور ان کوواپسی کارخ کرنےمیں سب سے زیادہ مشکل کاسامنا تھا(یہ میراذاتی بغص سمجھ لیں،لیکن میرا دل کہتا ہے کہ حقیقت ایسی ہی ہوگی )سوآنسوگیس سےمتاثرہونے والوں میں بھی اول تھے۔۔ مظاہرین ثواب کا کام سمجھ کر تتر بتر ہوئے تو علم ہوا کہ آنسوگیس کے باعث محترم قاضی صاحب کی آنکھ میں شائدخون کالوتھڑاجم چکا تھا۔۔۔غالباًیہ جمعے کا روز تھااور خبرہفتے کے اخبارات میں چھپی۔۔۔ پھردوروز بعداخبارات میں  ایک اورخبرچھپی۔۔۔۔امیرجماعت اسلامی علاج کےلیےامریکہ روانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جی امریکہ۔۔جس کےخلاف قاضی صاحب احتجاج کررہے تھے ۔۔ جس کےخلاف ان کے کارکنان ،ان ہی کی شہ پہ شدیدنعرےبازی (گالیاں ہی سمجھ لیں)کررہے تھے۔

اب اس سب کو اپ کیا بولیں گے؟؟؟ اخلاقی اقدار کا کیاہواجو اس جماعت کاخاصہ بالکل ان کے بانیان کا اوڑھنابچھوناتھا؟؟؟؟؟

یہاں سینئرصحافی کامشہورزمانہ جملہ یادآرہاہے کہ‘‘کیا یہ کھلاتضادنہیں’’۔۔۔؟؟؟؟

چلیں ایک اور چھوٹاساواقعہ عرض کیے دیتے ہیں۔۔۔۔غالباً دوہزاردوکےانتخابات تھے۔۔۔جماعت اسلامی نےحسب سابق دوسری جماعتوں  سےالحاق کرکے ایک اتحاد قائم کیا(ذاتی بغض میں میں اسے افغانستان کے شمالی اتحاد جیساقرار دینےکی گستاخی کرونگا،،یعنی لٹیروں کاٹولہ،کیوں کہ مولانافضل الرحمان بھی اسی اتحادکاحصہ تھے)۔۔ ان کا مقابلہ ایک آمر اور اس کی بنائی ہوئی کنگزلیگ سےتھا۔۔۔۔ جماعت نےمشکل وقت میں ثابت قدم رہتے ہوئے آمرکوللکارا۔۔ اس کی وردی اتروانے کاوعدہ کیا۔۔۔۔ ایک مرتبہ پھر اللہ کوپکارایعنی نفاذشریعت کانعرہ لگایا۔۔۔۔ عوام نے حسب سابق پذیرائی کی ۔۔۔ مشکل ترین حالات کے باوجود یہ اتحاد ایک صوبےمیں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔۔۔

حکومت ملی تو اپنے وعدوں کی تکمیل کا مرحلہ درپیش ہوا ۔۔۔سو جماعت نے بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھا اور ایک آمرباوردی صدرمنتخب ہوگیا۔۔۔۔ (ایم ایم اےکاووٹ اس وقت شائدکلیدی اہمیت رکھتا تھاجس پر اس وقت کےشیرخوارآزادمیڈیامیں کچھ لےدےبھی ہوئی تھی،مگر اتنی نہیں کہ عوام کے کانوں تک کچھ سچ پہنچتا)۔۔۔

یہ حال ہے اس سیاسی جماعت کا جو دوسروں کودغاباز،مفادپرست اور جانے کیاکیابولتی ہے ۔۔۔۔

تیسرا چھوٹاساواقعہ جو  دراصل ایک عالم دین،سابق قاضی اورسیاستدان کی آپ بیتی ہے،یہ بھی یقینامیرے ان دوستوں کوخاصاافاقہ پہنچائے گاجو ‘‘جماعت ’’کوواقعی میں‘‘ اسلامی’’ سمجھتے ہیں ۔۔۔

لاہورکےایک عالم دین،سابقہ جج اور سیاستدان (نام بوجہ نہیں لکھ رہا،،لیکن جن صاحب کو اگرچاہیے ہوگا تو لازمامل جائیگا)) غالبا2014میں جماعت کی ذیلی تنظیم شباب ملی کےپنجاب کنونشن کے مہمان خصوصی تھے ۔۔۔ کنونشن میں لاہوراورپنجاب کی سطح پرتنظیم کے نومنتخب عہدیداران نے حلف لینا تھا۔۔۔ مہمان خصوصی کواسٹیج پہ دعوت دیکرچندکلمات بولنے کی استدعاکی گئی ۔۔۔ محترم صدرمحفل اسٹیج پرتشریف لائے اور نومنتخب نوجوان عہدیداران اورحال میں موجود شباب کی کثیرتعداد کو مخاطب کرکے اپنی جوانی کاایک یادگارقصہ سنایا،،،وہ قصہ جس نے ان کی زندگی بنادی تھی۔۔یہ قصہ یہاں ان ہی کی زبانی درج کررہاہوں۔۔

‘‘میں اپنی جوانی میں سیاسی طورپربےحدمتحرک تھا۔۔ پڑھےلکھے خاندان سےتعلق تھا،خودبھی اعلی تعلیم یافتہ تھا۔دین کےاحیاکاشوقین تھا،شریعت کےنفاذکاشیدائی تھا۔۔۔ سو اسلام کا نعرہ لگانے والی جماعت کاسرگرم رکن بنا۔۔ غالباً1992کےانتخابات  تھے۔۔ جماعت نےصوبائی اسمبلی کےلیے ٹکٹ دینے کاعندیہ دیتےہوئے زوروشورسےتیاری کاحکم دیا۔ اس مقصدکےلیے اپنی اعلی تعلیم کو داؤ پہ لگادیااور پی سی ایس کے پاس کردہ امتحان کے باوجود کوئی سیٹ لینے سے بھی منع کردیاتھاجس پر والدین بےحد برہم تھے ۔ جوں جوں انتخابات کا وقت قریب آنےلگا،جماعت کی مقامی اورصوبائی قیادت کی جانب سے حوصلہ افزائی اور تیاری کاحکم مزید تواتراورشدت سے ملتا رہا ۔۔ حتی کہ آخری مہینےانہوں نے بلاکرحتمی طورپرامیدوارنامزدکرنےکی نویدسنادی ۔۔ اس سب کے دوران میرے گھروالے مجھے مسلسل روکتے رہے تاہم میں نہ مانا۔۔۔شائدیہی میرےحق میں بہتر تھا۔۔خیرٹکٹ جاری کرنےکاآخری روز تھااورمجھے بطورخاص بلاکرحوصلہ افزائی کےساتھ گھربجھوادیاگیا۔۔ان دنوں میڈیاتیزنہیں تھااورٹکٹ یافتہ امیدواروں کی فہرست اگلے روزاخبارمیں چھپاکرتی تھی ۔۔ سومیں نے بھی صبح سویرےجب اخباردیکھاتوجماعت کی جانب سے میرے حلقے میں ممبرصوبائی اسمبلی کےلیے کسی اورکوٹکٹ جاری کردیاگیاتھا۔(وہ بھی اس شخص کے کسی رشتہ دار کو جو جماعت کوشائدفنانس کیاکرتاتھااس حلقےمیں،اس کی شہرت کچھ اچھی بھی نہ تھی)۔۔بھونچکاسےمنہ ،دل میں حزن ملال کے جذبات لیے دفترپہنچاتومجھے اعلی عہدیداران سے ملنےسےروک دیاگیا۔۔۔کل تک جومیں آنکھ کاتارہ تھا،آج ایک قابل نفرت کارکن بنادروازےپہ کھڑارہ گیا۔۔۔ بس وہ دن میری زندگی کی کایاپلٹ گیا۔۔ سیاست پہ چارحرف بھیجے،گھرواپس آیااورکتابوں میں ایسادل لگایاکہ مقابلےکاامتحان پاس کرکے جج بنااور ہائیکورٹ میں فرائض سرانجام دئیے ۔۔۔ (یہ واقعہ ان کی اپنی زبانی اور میڈیاکےسامنے بیان کردہ ہے ،راقم نے خود یہ بات ان کے منہ سے سنی ہے ،،ذاتی خیال ہے کہ  ان کی کریڈیبلٹی  اور دین بارے علم  اس  جماعت کےسربراہ سے بھی زیادہ ہے ۔۔پوری پہچان بیان نہیں کرونگا بس اتنابتادوں کہ اس وقت ملک کے ٹاپ فائیومیں شامل ایک ٹی وی پہ دینی شوکرتے ہیں جو اپنی نوعیت میں صف اول کا شو ہے )۔۔۔

خیرایسے واقعات کافی ہیں جووقت اورجگہ کی قلت کےباعث نہیں لکھے جاسکتے ۔۔ یہاں بطورخاص یہ بتانا بھی ضروری ہے مختلف سیاسی حرکات پہ دوسروں کےلتے لینی والی جماعت کاخود یہ حال ہے کہ کےپی کے میں یہ ایک جماعت کی تو مرکزمیں یہ دوسری کی اتحادی ہے ۔۔ یا یوں کہہ لیں کہ یہ  صرف حکمران جماعت کی اتحادی بنناپسندکرتی ہے ۔۔۔یہ صوبے میں مرکزکی اتحادی جماعت کےخلاف تحریک میں بھی شامل ہے۔۔ ۔۔۔۔اسےکیانام دینگے؟؟؟۔۔

اسلام میں جھوٹ کی اجازت نہیں اور منافقت کی تو قعطاًٍ نہیں ۔۔۔اس تحریر کامقصدہرگزیہ نہیں کہ کسی خاص جماعت کوبرابھلاکہاجائےیا اس کےخلاف پراپیگنڈا کیاجائے۔۔تاہم کسی کو مسلسل عوام کو بےوقوف بنانے کی اجازت بھی تو نہیں دی جاسکتی ناں ۔۔

وہ بھی اللہ کے نام پہ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s