پاکستانی سیاست کے ‘‘گاڈفادر’’۔۔۔۔

محترم چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری ان دنوں شعلہ بیانی کےجوہردکھانے میں مصروف ہیں ۔۔ اپنی جوشیلی تقریروں میں وہ کبھی عمران خان کورگڑتےہیں توکبھی باقی مخالفین کو ۔۔۔ گزشتہ دنوں تواپنی ایک تقریر میں انہوں نے سب سے بڑے حریف اورموجودہ وزیراعظم میاں نوازشریف کو یہاں تک کہہ دیا کہ ان کے اصل باپ ضیاالحق  ہیں۔۔۔

اس جملے نے سوچوں کے کئی در وا کردئیے ۔۔۔ملک سیاسی نظام اور اس میں باپ یعنی گاڈفادرز کے کردار بارےکئی کہانیاں ذہن میں گھومنے لگیں۔۔۔۔۔۔

ذہن میں پاکستانی سیاست کےخدوخال گھومنے لگے ۔۔۔۔۔

 

پاکستان میں سیاست قدرے مختلف مزاج رکھتی ہے

یہ ‘‘عوام کے نمائندے عوام میں سے ’’جیسے جمہوریت کے عالمی مفہوم کو نہیں مانتی

عوام کےلیے بننے والے جمہوری ملک کی سیاست ’’عوام کو ہی نہیں  مانتی ’’

یہ سیاست صرف باپ کو مانتی ہے۔۔

اور اس معاملےمیں نقل کی ہے تو ’’آزاد امریکی ’’معاشرے کی۔۔۔یعنی‘‘ کثیر الباپی‘‘

مزے کی بات ہے کہ اس پہ یہ شرمندہ بھی نہیں۔۔۔بلکہ کثیرالباپی  ہونافخر،اعزازاور کامیابی کی ضمانت سمجھاجاتاہے ۔

پاکستانی جمہوریت  کی اس خوبی نے نے کئی سپوت  پیدا کیے ہیں جو اب کارزار سیاست کے مستقل کھلاڑی ہیں۔۔

پاکستانی سیاست میں باپ کی بہت ورائٹی پائی جاتی ہے ۔۔مقامی بھی اور غیرمقامی بھی ۔۔۔۔ مگر فوقیت بہرحال غیرمقامی کو ہی حاصل ہے ۔

کچھ قابل ذکر کرداروں  کابیان ۔۔ذرا تفصیل سے

پہلاکردار۔۔۔ملک کا پہلا فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان

یہ بہت سمجھدار اور قابل تھا،،،اتنا کہ اس وقت کی سپرپاورکوچھوڑکر ایک ابھرتی ہوئی طاقت امریکہ کو باپ بنالیا۔۔۔

یہ پاکستانی سیاست میں ’’ باپ ’’کا ۔۔۔۔۔درآمدکنندہ ۔۔۔۔۔بھی ہے ۔۔

ویسے تو پاکستانی سیاست کو ایک ‘‘ماں ’’بھی ورثے میں ملی تھی تاہم اس کی حیثیت پاکستانی معاشرے میں ماں باپ کے کردار کی طرح باپ کی موجودگی میں ثانوی ہی رہی ۔۔۔۔

اس کےبعد آنے والے سبھی بلڈی و نان بلڈی حکمران اسی ’’باپ ازم’’ پہ چلتے رہے ،بلکہ چل رہے ہیں۔۔اور سب سے طاقتور باپ بھی یہی امریکہ ہی ہے ۔۔

سیاست کا دور کوئی بھی ہو۔۔۔ باپ کا کردار نہیں بدلا اور نہ ہی اس کی اہمیت میں کوئی کمی آئی ۔۔

بات ایوب خان سے شروع ہوئی،تو اس کے پیشرونےبھی اسی روایت کونبھایا۔۔۔

یحیٰ خان امریکہ کوباپ بناکرتقریبا پونے تین سال سے زائدعرصہ نکال گیا۔۔حالانکہ اس سے پہلے اسی امریکہ کاہی لےپالک تقریباساڑھے دس برس حکومت پہ قابض رہ چکا تھا۔۔۔

اس کے بعد ذوالفقارعلی بھٹو نے ملک سنبھالا۔۔۔ یہ پہلے فوجی حکمران ایوب کا ‘‘بیٹا’’ تھا۔۔۔

ایوب کو ہی شائدپہلے ‘‘مقامی  باپ’’ کادرجہ حاصل ہے ۔۔اس کو باپ بناکرایک نوجوان سیاستدان نے اقتدارکےایوانوں میں قدم رکھا اورتیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے لگا۔۔

سیاست میں ایک باپ وقت بھی ہے اور ‘‘ابن الوقت’’ ہمیشہ ہی کامیاب رہے ہیں۔۔ سو وقت آنے پہ باپ سے بغاوت کرنے والابھٹوبھی کامیاب رہا۔۔۔۔یحییٰ سے اقتدارلینے والا بھٹو عوامی طاقت کےچکرمیں شائدپاکستانی سیاست کا مزاج بھول گیا۔۔آکسفورڈسے سیاسیات میں گولڈمیڈلسٹ کو عوامی سیاست لے ڈوبی۔۔سو بھٹو نےاپنے پیشروں کے باپ کووہ لفٹ نہ کرائی جس کو وہ اپنا حق سمجھنے لگاتھا۔۔۔وہ وقت بڑا اہم اتھا۔۔ملک بڑے سانحے سے گزرنے کےبعد دوبارہ تعمیرکےمرحلے سےگزررہاتھا۔۔۔ایک عوامی لیڈروزارت کے اعلی ترین منصب پہ تھا۔۔۔ مقبولیت بھی خوب تھی۔۔مگر ‘باپ ’’ کی نافرمانی پراسے ایسے انجام سے دوچار ہوناپڑا جو تاحال کسی اور کے حصے میں نہیں آیا ۔۔۔ ایک منتخب وزیراعظم کومعزولی کےبعدتختہ دارپرچڑھناپڑا۔۔۔

منتخب وزیراعظم کو معزول کرنےوالا کون تھا؟؟؟ وہی جس نے اسے‘‘باپ ’’ بناتے ہوئے طاقت حاصل کی تھی۔۔

یعنی باپ  والا فارمولاہی کام دکھاگیا۔۔۔

تیسرے فوجی حکمران ضیاالحق نے غیرمقامی باپ کے بہکاوے میں آکرمقامی‘‘باپ ’’ کےخلاف غداری کی۔۔۔

صلہ حکمرانی کی صورت میں ملا اور وہ ‘‘باپ ’’ والا ہونے کی وجہ سے تیزی سے ملکی سیاست پہ چھاگیا۔۔

سیاسی مجبوریوں نے جلدہی اسے خود بھی ‘‘باپ’’ بننے پہ مجبور کردیا۔۔۔

اس کےبطن سے(جی یہ سیاست کے باپ ہیں، بچے جمورےخود ہی جنتے ہیں) دوقابل ذکر نونہالان سیاست نے جنم لیا۔۔۔

پہلاجنم شرمیلےبٹ کاتھاجسے پہلےمشیر،پھروزیر،پھروزارت اعلیٰ تک ہاتھ پکڑکر اسی باپ نے پہنچایا۔۔(آگے چل کر مکمل تذکرہ ہوگا)

دوسراایک عفریت کا تھاجسےبعدمیں ‘‘بھائی’’کہنے پہ مجبورہوئےسب۔۔۔مہاجرقومی موومنٹ  کے نام سے شروع ہونے والی تحریک کے رہنما کو‘‘باپ’’ملاتو وہ ملکی سیاست میں تیزی سے ابھرا۔۔۔

بڑے عزائم اور فطرتاًحریص ہونے کے باعث جلدہی اس نے ایک کی جگہ دو دو باپ بنالیے ۔۔۔ بنگلہ دیش اور سرحد میں اپنا کرداراداکرنے کے بعد ،،، بھارت نے اب کےالطاف حسین کو بھی گودلے لیا۔۔۔

بھارت وہ واحدباپ ہے جس کا ملکی سیاست میں عمل داخل شائد کسی کوبھی پسند نہ ہو۔۔مگر اس نے جس کو بھی گودلیا،وہ اپنے مقاصدمیں حدسےبھی زیادہ کامیاب رہا۔۔۔

شیخ مجیب الرحمان اور اس کی عوامی پارٹی کے ذریعے پاکستان کودولخت کرنے جیسی کامیابی کچھ کم نہ تھی کہ سرحد میں اے این پی کےذریعے اسے معاشی خوشحالی کےعظیم منصوبے سے باز رکھ کر اس میدان میں بھی کامیابی حاصل کرلی ۔۔۔

الطاف حسین نے بھی کچھ کم کامیابیاں نہیں سمیٹیں۔۔۔اپنے پہلے باپ سے تو ناتاجلدٹوٹ گیا،تاہم بھارت باپوکی مددسے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دئیے کہ عروس البلاد کراچی اندھیروں کاگڑھ بن گیا۔۔ ایک ایک روزمیں 2،2سو سے زائدلاشےاٹھنے لگے توپاکستان کی جیب بھی تنگ پڑنےلگی۔۔سرمایہ داربھاگے تو الطاف کے‘‘باپ’’کادہرامقصدپوراہوا۔۔۔

 

حالات نےذرا کروٹ لی تو الطاف کوبھاگناپڑا،،اور اور اس کو عافیت کہاں ملی؟؟؟؟؟ ۔۔

پاکستانی سیاست کی ‘‘ماں‘‘ سلطنت فرنگیہ کی آغوش میں۔۔۔۔تب تک اس نے بھی باپ کی ہی شکل اختیارکرلی تھی۔۔۔اور موصوف تادم تحریراسی آغوش میں ہیں۔۔۔

جنرل ضیاالحق  بہاولپورکے نزدیک بستی لال کمال کی فضامیں اپنے تمام‘‘باپوں’’ کو چھوڑتے ہوئےخالق حقیقی کےپاس پہنچے توملکی سیاست ایک مرتبہ پھرڈانوڈول ہوئی اور انتخابات کاعمل شروع ہوا۔۔۔

انتخابات میں کامیاب تو بھٹو کی بیٹی ہوئی،تاہم اس بار اس کا ‘‘باپ ’’ کوئی اور تھا۔۔

نوے کی دہائی پاکستان میں بہت ابتری کادور تھی۔۔۔ یکے بعددیگرچارحکومتیں قائم ہوئیں اور معزول کی گئیں۔۔ اس دوران سیاست میں ایک اورمقامی باپ بھی پیداہوچکاتھا۔۔۔ یہ باپ موجودتوبہت پہلے سے ہی تھا،مگر بطورفردکی جگہ بطورادارہ اس کے  باپ بننے کی یہ شائدابتداتھی۔۔۔ مزے کی بات تو یہ کہ یہ تھا بھی ‘‘نان سویلین’’۔۔۔

اس باپ نے بھی بڑے سیاسی جمورے پیدا کیے۔۔

نوے کی دہائی میں تو اس کی آشیرباد۔۔غیرملکی باپ کی آشیرباد سے بھی زیادہ اہم ہوگئی۔۔

یکے بعددیگرے چار حکومتیں گرنے میں زیادہ کردار اسی  کے مزاج گرامی کارہا۔۔۔

 

دنیااکیسویں صدی میں داخل ہوئی توپاکستان پرایک فوجی کی حکومت تھی۔۔۔مقامی باپ نے اپنے غیرمقامی‘‘باپ’’ کے احترام کی جو مثالیں قائم کیں وہ شائد کسی اورکےحصے میں نہ آئیں۔۔۔(یہ الگ بحث ہے،اس پہ بات موضوع کاحصہ نہیں)

خوب خدمت کرکے نوسال نکالے۔۔مگر جیسے ہی باپ کو بیٹے کی میبنہ بدچلنی(دہشتگری کےخلاف فنڈزلیکرطالبان کو پروان چڑھانا) کاپتہ چلا۔۔۔ وہی وقت اقتدارکی آخری گھڑی ثابت ہوا۔۔ اور مبینہ سیاسی دباؤ کےتحت اسے پہلے وردی اورپھراقتدارسےالگ ہونا پڑا۔۔

 

سندھ کے سائیں آصف علی زرداری نے حکومت سنبھالی توامریکہ کی آشیرباد سے ہی ، تاہم جاتے جاتے ‘‘منگول بچہ ’’کوبھی ‘‘باپ ’’کادرجہ دینے کی کوشش کرگئے ۔۔۔۔(شائد آنے والے برسوں میں یہ منگول بچہ پاکستانی سیاست میں اہم حصہ دار بن جائے،باقی باپوں کی طرح)

 

فوج سے آنکھ مچولی کےبعددودفعہ وزارت عظمی ٰسےسبکدوش ہونے والے نوازشریف نے تیسری مرتبہ مسنداقتدارسنبھالی تو محتاط قدم اٹھائے۔۔۔ اس بار امریکہ  جیسے غیرمذہبی باپ کے ساتھ ساتھ ہم مذہب  اور شریفین ٹائپ کاباپ بھی ساتھ ہی لیکرآئے ۔۔۔

اور یہ باپ کام بھی آتا رہاہے ۔۔۔۔

 

ملکی سیاست کے نئے کھلاڑی عمران خان نے بھی مقامی باپ(انکل پاشا) کے سہارے حکومت میں آنے کی کوشش کی  ۔۔۔۔

اتنے برس کی سیاسی جدوجہد کھلاڑی سیاست دان کو جب مقصدنہ دلاسکی تو اس نے بھی روایتی سیاست کاطریقہ کار اپنانے کی سوچی۔۔۔

نوآموز کےلیے ظاہر ہے مقامی باپ ہی بہترین چوائس تھی،ادھر مقامی باپ بھی گھاگ بچوں سے خائف ہوکرنئےجمورے کی تلاش میں تھا۔۔ سو دونوں کے درمیان پہلی نظر والا پیارقائم ہوا جس نے پھر روایتی سیاستدانوں کی نیندیں بھی اڑائیں۔۔

اس بار مقامی باپ نے اس نوآموزکو گاجراورچھڑی کےکھیل میں بطور چھڑی استعمال کیا۔۔۔اور جب چاہا عمران کوچھڑی بناکرمخالفین کوڈرادیا اورجب چاہاعمران کوگاجربناکرمخالفین کو سیاست چبانے،اوہ میرا مطلب ہے چمکانے کاموقع دیدیا۔۔۔

 

اب گزشتہ دنوں نوجوان چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول ‘‘بھٹو’’زرداری نے جوش خطابت میں اپنے سیاسی حریف کے باپ کا ذکرکردیا۔۔

یہ ذکرسنتے ہی فوراً ذہن میں بس ایک ہی سوال کلبلایا۔۔۔۔۔

کہ کیااس نووارد سیاست کو بھی علم ہے کہ اس کا ‘‘باپ ’’کون ہے؟؟؟

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s