خوشی کا موسم

ویسےتوسال میں چارموسم ہوتےہیں جن کوموسم سرما،گرما،خزاں بہارکےنام دیئےجاتےہیں لیکن ان رسمی ناموں سےہٹ کرکہاجائےتوموسم صرف دوہی ہوتےہیں ایک خوشی کااورایک غم کاموسم۔۔۔موخرالذکرہماراموضوع نہیں کہ یہ ایک ناپسندیدہ موسم خیال کیاجاتاہے ۔۔بات کرتےہیں خوشیوں کےموسم کی توہم اس کی وضاحت کیےدیتےہیں۔۔خوشی کاموسم سےمرادوہ ایام ہیں جواپنےساتھ خوشیاں اورسکون  لائیں اوربادی النظرمیں موسم سرمااس تعریف پرپورااترتاہے۔اس کی وضاحت بھی ہم کیےدیتےہیں کہ اس موسم میں خواص کےساتھ ساتھ “ہمیشہ کی دکھی”عوام کوبھی تھوڑی سی خوشی میسرآجاتی ہے۔وہ کچھ یوں کہ پاکستان کےگرم مزاج موسم میں بہنےوالےپیسنےسےجان توچھوٹتی ہی ہےساتھ ہی ساتھ بجلی اورپانی کی لوڈشیڈنگ میں بھی نمایاں کمی آجاتی ہے(یہ کمال ہمارےحکمرانوں کانہیں بلکہ موسم کی تبدیلی سےکھپت میں ہونےوالی کمی کاہے) اورہاں بجلی کےبلوں میں بھی خاطرخواہ کمی سونےپہ سہاگہ کےمترادف ہوتی ہے۔ اس موسم میں سنگل پسلی(ہمارےپیٹی بندبھائی)افرادبھی آئےروزکی طعنہ زنی سےکچھ عرصےکےلیےمحفوظ ہوجاتےہیں کہ

“تیری دولت نےتیرےعیب چھپارکھےہیں”

کہ مصداق ان کاتہہ دارتہہ لباس ان کی “عزت “بچائےرکھتاہے۔۔

یہ موسم عوام میں تومقبول ہےہی لیکن حکمران بھی اس کےگن گاتےنظرآتےہیں کہ ایک تویہ بجلی وپانی کی لوڈشیڈنگ سےہونےوالی روزروزکی “عزت افزائی”سے کچھ ریلیف ملتاہے،ساتھ ہی ساتھ یہ سرکاری ملازمین کی پسندیدہ عادت یعنی “تنخواہ بڑھاؤاحتجاج”کےسلسلےکوبھی کچھ عرصےکےلیےموقوف کرنےکاسبب بنتاہے (کیوں کےجون سردیوں میں نہیں آتا)۔

سردیوں کی ایک خاص بات اس کی “حدود”میں آنےوالےتہواربھی ہیں۔۔ہیپی نیوایئرجیساعالمی تہوارجسےمنانےکےلیےپوری دنیابےتاب ہوتی ہےوہ بھی انہی سردیوں کی ہی سوغات ہے۔ہیپی نیوایئرسےذرافارغ ہوتےہی ایک اورعالمی تہواربھی اسی موسم میں منتظرہوتاجسے”ویلنٹائن ڈے”یعنی اظہارمحبت کاتہوارکہاجاتاہے۔۔یہ ایک ایساتہوارہےکہ جو بذات خودایک موسم  کادرجہ رکھتاہےکہ جیسےبہارمیں پھول کھل اٹھتےاورگلشن مہک اٹھتےہیں ،ایسےہی اس موسم میں نوجوان جوڑےبھی پھول اوربھنورےکی مثالیں بنےنظرآتےہیں۔۔”ویلنٹائن اپنی تمام ترمشکوکیات اورکچھ طبقوں کی(بالخصوص والدین ٹائپ مخلوق)ناپسندیدگی کےباوجودسردیوں کی ایک خاص سوغات کےطورپرموجودہے۔۔۔اس کےعلاوہ مقامی سطح پرجشن بہاراں میلہ بھی جاتی سردیوں کاتحفہ قراردیاجاتاہے۔۔(وہ الگ بات ہےکہ لاہور میں وہ میلہ پوراکاپوراصرف  نہر کےایک چھوٹےٹکڑےتک محدودرہتاہے اوراسی وجہ سےعوام کےلیےخوشی کی بجائےعذاب بن جاتاہے)۔۔

اس موسم کی خوشیاں توبےشمارہیں جن کواحاطہ تحریرمیں لاناخاصاجوکھم اوروقت طلب کام ہے لیکن جاتےجاتےہم اس موسم کے”متاثرین”کابھی تذکرہ کرتےجائیں ۔۔اس موسم کوچاہنےوالےکروڑوں میں ہیں بلکہ یہ کہنابجاہےکہ وہ کون کافرہوگاجواس موسم کااسیرنہ ہوگا۔لیکن ایک طبقہ ایسابھی ہےجواس حسین ولطیف موسم سےنہ صرف خائف ہےبلکہ کھلےعام اس موسم کے”ڈی میرٹس”پرمذاکرےکرتابھی نظرآتاہے۔۔ان “اہل میراث”کےلیےیہ موسم کیوں ناپسندیدہ ہےاس کی وجہ تووہ ہی بہترجانتےہیں لیکن ہمارامشورہ تویہی ہےکہ اس موسم میں کیڑےنکالنےکی بجائے”خودی کوکربلنداتنا”۔۔۔۔۔

 

published on daleel.pk

خوشی کا موسم – حسن تیمور جکھڑ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s