اپنے حصےکاتھپڑ

 

سائیڈ پہ ہوجائیں۔۔۔ ادھرے سےہٹ جائیں ۔۔ہمیں کام کرنے دیں۔۔۔۔

بھائی ہم اپنا کام کررہے ہیں، ہمیں کیوں روک رہے ہو۔۔۔۔۔

چل چل تو کیمرہ لگا،،دیکھ لوں گا ان ۔۔۔۔۔۔ کو

یہ ان بہت سے جملوں میں سے چندہیں جو فیلڈ میں ہمارے صحافی بھائیوں کا تکیہ کلام بن چکے ہیں ۔۔ ہمارے ملک میں صحافت ایک مقدس پیشہ ہونے کی بجائے طاقت کےحصول کاایک ذریعہ سمجھی جانے لگی ہے ۔۔۔ہم میں سے بہت سے دوست (معذرت کے ساتھ کہوں گاکہ تقریباسبھی دوست) یہی سوچ کر اس میدان میں آتے ہیں کہ وہ صحافی بن کر استثنیٰ نامی وہ سلیمانی ٹوپی حاصل کرلیں گے جس کے بعد وہ اخلاقی تقاضوں اورقانون نامی ’’بلاؤں ’’ سے ’’محفوظ’’ رہ سکیں گے ۔۔ان سے پوچھ گچھ کرنے کی اول تو کسی میں ہمت نہ ہوگی ،،اوراگر ہوئی بھی تو اس جادوئی ٹوبی کی موجودگی میں وہ ان کے سامنے سے ’’گدھے کے سر سے سینگ ’’ جیسے غائب ہوجائیگا۔۔۔

سرکاری عمارات ہوں یا حساس مقامات۔۔۔۔۔

جلسے جلوس ہوں یا کسی کا گھر ۔۔۔۔۔

خوشی کی تقریب ہویا کوئی حادثہ ۔۔۔۔۔۔۔

ان کو وہ استثنیٰ حاصل ہوگا کہ یہ جو جی میں آئے کرتے پھریں اور بازپرس یا اخلاق و ضابطے سے بالکل ماورا ہوں۔۔۔

فیلڈ والوں کو چھوڑیں ،،ڈیسک اور ٹیکنکل والے بھی کچھ کم نہیں ہوتے،،وہ بھی بارہا اپنے طرزعمل سے اس پیشے اورادارے کی ’’نیک نامی’’ میں مزید اضافے کا باعث بنتے رہتے ہیں ۔۔۔۔

آج کل ایک واقعہ کاسوشل میڈیاپہ بہت چرچاہے جس میں ایک ’’مظلوم ’’خاتون صحافی کو ایک ’’ان پڑھ جاہل اور ظالم‘‘مرد گارڈنے اس کے فرائض کی انجام دہی سے روکتے ہوئے تھپڑ جڑدیا۔۔۔۔ وہ ویڈیودیکھنے ،،باربار دیکھنے کے باوجودبھی میں اس میں سے گارڈکی کوئی خاص غلطی نہیں نکال سکا،سوائے اس کے کہ اس نے تھپڑ ہی کیوں مارا۔۔۔۔

میں احترام عورت کا قائل اور حقوق نسواں کا علمبردار بھی ہوں ۔۔ لیکن احترام آدمیت کی قیمت پہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ویڈیودیکھنے کےلیے یہاں کلک کریں

یہ ویڈیو کسی انفرادی نہیں،بلکہ یہ ایک اجتماعی طرز عمل کی عکاس ہے جو اس فیلڈ سے وابستہ افرادمیں کسی سرطان کی طرح سرایت کرچکا ہے ۔۔۔ اس پہ لکھنے اور بولنے کو بہت کچھ ہے لیکن اپنی کم علمی،مضمون کی طوالت اور عوام کی سہولت کےلیے صرف اسی واقعہ پر توجہ مرکوز رکھناچاہتا ہوں ۔۔۔ سو

اس تازہ ترین واقعہ کے بعد اب ضروری ہوگیاہے کہ ان محرکات پہ نہ صرف غورکیاجائے بلکہ اس کے سدباب کےلیے اقدامات بھی اٹھائے جائیں ۔۔۔

پہلا محرک: صحافت میں کمرشل ازم کی آمد۔۔۔ اس کو بلیک میلنگ ،پراپیگنڈے کےہتھیارکے طورپراستعمال کرنے کی سوچ نے جہاں صحافت کوتباہ کرکے رکھ دیاوہاں اس سے وابستہ افراد (چیف سے لیکر ڈرائیورتک) میں مجرمانہ سوچ کوفروغ دیا۔۔زردصحافت،بلیک میلنگ اور فوائدکےنام پہ رشوت ستانی جیسی برائیاں اس فیلڈکاجزولاینفک بن کر رہ گئیں

دوسرا محرک: موثرنگرانی کافقدان،،سرکاری اداروں کی مجرمانہ چشم پوشی ۔۔۔ اس محرک نے صحافت کو بگاڑنے میں سب سے کلیدی کردارادا کیا ۔۔ کیوںکہ جس طرح انسان بنیادی طورپر لالچی اورگناہ کی طرف جلد مائل ہونے والا ہے،اسی طرح ادارے بھی اسی طرز پہ کام کرتے ہیں ۔۔ صرف موثر نگرانی اور تعزیرکاخوف ہی ان کو کسی غلط کام سے روک سکتا ہے ۔۔۔ نگرانی نہ ہونے سے  مقدس پیشہ اور ریاست کا چوتھاستون کہلانے والے ادارے وہ جونکیں اورگدھ بن گئے جو  صرف اپنا پیٹ بھرنے کےلیے دوسروں کاخون پینے  اور کسی کو مارنے میں قعطاً ہچکچاہٹ کاشکار نہیں ہوتے ۔۔اس میں سراسرقصورانتظامیہ اورحکمرانوں کا ہے

تیسرامحرک:  تنخواہوں کی عدم ادایئگی یااس میں تاخیر۔۔۔۔

یہ محرک ان بڑی وجوہات میں سے ایک ہے جس نے صحافی کو عزت کی بلند مچان سے گرانے میں اہم کردار ادا کیا ۔۔۔ میدان صحافت میں موجودبہت سے ادارے یا تو ورکرزکوتنخواہیں سرے سے ادا ہی نہیں کررہے یا پھر ان میں اس قدرتاخیر کی جاتی ہے کہ ورکرزکےگھرفاقہ کشی کی نوبت پہنچ جاتی ہے ۔۔ ایسے میں اخلاقی اقدار اور پیشہ وارانہ اصولوں کی پاسداری دیوانے کاخواب بن کررہ جاتی ہے ۔۔۔۔ ایسے میں وہ کہیں اپنی ’’صحافت’’ بیچنے پہ مجبور ہوتے ہیں تو کہیں ’’بدمعاشی ‘‘دکھاکر‘‘پیسے’’ پورے کرتے ہیں۔۔۔یہی وہ محرک ہے جس کےتحت کم پڑھے لکھے(سرے سے ان پڑھ بھی شامل کرلیجئے) افرادبھی اس پیشے کاحصہ بنے اور پھراپنا اپ خوب دکھایا۔۔۔

چوتھامحرک: تربیت کی کمی،احتساب کافقدان۔۔۔۔۔

ہمارے میڈیاکےاداروں میں پروفیشنل ازم کا فقدان تو ہے ساتھ ہی ساتھ اپنے ورکروں کی ذہنی وعملی استعدادبڑھانے کےلیے تربیت نامی چڑیاکوبھی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔۔۔پرانے ورکرزکےلیے ریفریشرکورسزتو دور،نئے آنےوالےساتھیوں کوبھی کسی قسم کی عملی تربیت نہیں دی جاتی۔۔۔۔زیادہ تر ادارے ویسے ہی نوآموزطلبہ کولیکراپنے پیسے بچانے کے چکرمیں لگے ہیں جس کانتیجہ نت نئے ’’بھنڈ‘‘کی صورت میں نظر آتارہتاہے ۔۔

اس کے ساتھ ساتھ رپورٹرزنامی مخلوق میں احتساب نامی ڈنڈےکاخوف بھی ناپیدہوچکا ہے ۔۔ وہ کسی نوعیت کی بھی غلطی کرلے،اسے کسی نوعیت کی سزا کاڈر نہیں ہوتا(نہ محکمانہ ناہی اس کا  جس کےخلاف وہ غلط خبر دی گئی ہو)۔۔۔کسی سنگین غلطی کی صورت میں بھی زیادہ سےزیادہ ادارے ایک لفظ ’’معذرت‘‘چھاپ کر’’گنگا‘‘نہاجاتے ہیں۔۔۔۔

 

ان محرکات کےعلاوہ بے شماردیگروجوہات بھی ہیں جو اس پیشے کی تنزلی کی بنیاد ہیں ۔۔۔ ان تمام محرکات کو روکنے کےلیے کیا کیاجانا چاہیے اور کیا کیا جاچکا ہے اس پہ بحث کرنا یہاں ممکن نہیں کیوں کہ یہ ایک الگ مضمون کی متقاضی ہے اور اپنے بس سے باہر بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسائل کی نشاندہی کرنا پہلا اوربنیادی قدم ہے جس کے بعد ہی اس کےحل کی نوبت آتی ہے ،، سو میں نےاپنے تئیں کچھ باتیں بیان کردی ہیں  ،اب میں اپنے ‘‘صاحب اقتدار’’ صحافی دوستوں سے امیدکرتاہوں کہ وہ اس کےسدباب کےلیے اپنی اپنی سطح پراقدامات اٹھائیں ،بصورت دیگر اپنے حصےکاتھپڑ کھانے کےلیے تیار رہیں۔۔۔ اور ضروری نہیں کہ اپ کو یہ عزت کسی گارڈ کے ہاتھوں ہی ملے۔۔۔۔

وہ کوئی چپڑاسی بھی ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نوٹ:ویب سائٹ دلیل پرشائع ہوچکی ہے یہ تحریر۔۔۔
لنک:http://daleel.pk/2016/10/26/12767

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s