بچوں پرتشدد،،ایک کمپنی کےقیام کی ضرورت

بچوں پرتشددکےخاتمےکےحوالے سے منسٹری آف لاء اینڈجسٹس اورنیشنل کمیشن فارچائلڈویلفیراینڈڈویلپمنٹ کی جانب سے میڈیاورکرزکی ایک روزتربیتی ورکشاپ کااہتمام کیاگیا۔۔تربیتی ورکشاپ کامقصدتومیڈیا کوبچوں سےزیادتی یاچائلڈلیبرکےحوالےسےرپورٹنگ کےکچھ اصول وضابطےبتلاناتھا لیکن سینئرصحافیوں،این جی اوزکےنمائندوں، معروف سکالرزاورمتعلقہ حکومتی نمائندوں کےاس اکٹھ نےمنی جلسہ گاہ کی شکل اختیارکرلی ۔۔۔ حکومتی نمائندوں کی جانب سے پیش کردہ اعدادوشمارغیرحتمی اورپرانےتھےجس نےان محکموں کی کارکردگی پربھی بہت بڑاسوالیہ نشان اٹھایالیکن پھربھی اس ورکشاپ کی اچھی بات اس میں سینئرتجربہ کارصحافیوں اورسماجی کارکنوں کی پرمغزگفتگوکےساتھ ساتھ نوجوانوں کی فعال حصہ داری تھی۔۔۔بالخصوص نوجوان سٹوڈنٹ اورسماجی کارکن (نام یادنہیں)کی جانب سے اٹھایاجانےوالا روایتی سوال‘‘بانڈڈلیبرکےشکاربچوں کوتعلیم کےعوض پیٹ بھرنےکاکیامتبادل طریقہ’’ دیاجارہاہے ،نےاس اچھی بھلی محفل کومچھلی منڈی بننےکی بنیادفراہم کردی ۔۔۔خیریہ توجملہ معترضہ تھا، لیکن سیمیناربہت حوالے سےبہت مفیدرہاکہ اس میں پروفیسرمغیث الدین شیخ صاحب نےمیڈیاکوخودپرکوڈآف کنڈیکٹ لاگوکرنےکےلیےخوب لتاڑا(لیکن غلط بندوں کو،پالیسی تومالکان یاڈائریکٹرسطح کےلوگ دیتےہیں نہ)۔ اورسینئردوستوں نےبھی اپنےاپنےخیالات کااظہارکیاجس سے ڈائیورسٹی آف تھاٹ ملی ۔۔۔
تربیتی نشست میں محکمہ قانون وانصاف کی جانب سے پیش کردہ اعدادوشمار کےمطابق پاکستان میں سن دوہزارچودہ میں ساڑھےتین ہزاربچےزیادتی کاشکارہوئے(صرف رپورٹ کردہ کیسز) جوکہ گزشتہ سال کی نسبت سترہ فیصدزائدرہی ۔۔۔ بچوں سے زیادتی کی شرح نمونےتوچین کی شرح نموکوبھی کافی پیچھے چھوڑدیاہےاوراس کامستقبل بھی خاصاتابناک نظرآرہاہےکہ سانحہ قصورجیسے ملکی تاریخ کےبدترین جنسی سکینڈل اسی برس سامنے آچکا ہے ۔(صرف ایک ہی گاؤں میں دوسواسی سےزائدکسیز)۔۔ اس سانحے میں متاثرین کوانصاف فراہمی کےلیے خادمین کی پھرتیاں بھی اس بات کی غمازی کررہی ہیں کہ وہ اس شرح نموکوروکنےکی بجائے اس کی بڑھوتری میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں ۔۔ ایک نجی ٹی وی چینل نائنٹی ٹوکی جانب سےمنظرعام پرلائےجانےوالےاس سکینڈل کےبعدجس طرح بادل نخواستہ انتظامیہ حرکت میں آئی اور طوہاًکرہاًمجرمان کوپکڑناشروع کیا اس سے ہی ‘‘ہونہاربروا کےچکنےچکنےپات’’ کھل کرسامنےآگئےاور ساتھ ہی ساتھ چائلڈابویوزکی روبہ ترقی شرح نموکی بنیادی وجہ بھی پتہ چلنےلگی ۔۔خیر بات چلی تھی اس تربیتی ورکشاپ کی کہ جس کامقصدبچوں پرتشدد کوروکناتھا اوراس کےلیے سینئرصحافیوں،سکالرزاورسماجی کارکنوں کوایک جگہ پراکٹھاکیاگیاتھاتاکہ اس حوالے سےکوئی لائحہ عمل طےکیاجاسکے ۔۔لیکن اس تقریب کی زیادہ ترتجاویزیاگفتگو بچوں کی تعلیم و تربیت کےگرد ہی گھومتی رہی ۔۔۔اس سلسلے میں محترم ابصارصاحب نےایک بہترین سوال کاخودہی بہترین جواب بھی دیاکہ بچوں کی تربیت کی سب سےزیادہ ضرورت ہےجس کےبعدوہ کافی مسائل سے خودہی نمٹ سکتےہیں،،اس مقصدکےلیے انہوں نے بچوں کےلیے معلوماتی پروگراموں بالخصوص کارٹونزکی ضرورت پرزوردیاجوان کی ذہنی تعمیرمیں اہم کرداراداکرسکیں ۔۔۔ اس تربیتی نشست کاایک خاموش حصہ ہونےکےباوجودراقم اس نشست کی اصل وجہ کےحوالے سے متعددتجاویزدینےکاخواہشمندتھالیکن سینئرزکی موجودگی میں لب کشائی کی ہمت نہ ہوئی(نہ ہی وہ اس نوعیت کاکوئی موقع دینےپرتیارتھے،،قعطاًبھی نہیں)۔۔میرے نزدیک بچوں پرتشدد چاہے وہ ڈومیسٹک وائلنس ہویاچائلڈلیبر، کم عمری کی شادی ہویاجنسی استحصال ان سب کےخاتمےکےلیے ایک ہمہ جہت،مربوط اورمسلسل تحریک چلانے کی ضرورت ہے ۔۔۔ آبادی پرقابوپانےجیسے بنیادی نکتےسے شروع ہونےوالی اس مہم کےدیگرمقاصدمیں تعلیم،غربت میں کمی(بطریقہ سستی اشیاخورونوش،رہائش،تعلیم،صحت کی فراہمی) اوردم توڑتی اخلاقی اقدارکافروغ ہے۔۔اس کےساتھ ہی ساتھ ایک اہم ترین نکتہ یہ ہےکہ جب بھی معاشرےمیں بچوں پرتشدد(کسی بھی حوالے سے)کاکوئی کیس سامنےآئےتواس معاملےکی چھان بین سےلیکرملزمان کوسزادلانےتک کاکام پولیس کی بجائےاس حوالے سے سپیشلائزڈافرادکےذریعےکرایاجائے۔۔ اس مقصدکوپانےکےلیےچائلڈپروٹیکشن بیوروطرزکی الگ فورس بھی بنائی جاسکتی ہے یاپھرمحکمہ پولیس میں ایک الگ ڈیپارٹمنٹ ہی اس مقصدکےلیے قائم کردیاجائے۔(یاخادمین کی حکومت اس مقصدکےلیے بھی ایل ٹی سی،ایل ڈبلیوایم سی طرز کی ایک نجی کمپنی تشکیل دےسکتی جس کوہرکیس حل کرنےپرکمیشن کی سہولت بھی حاصل ہوتاکہ بچوں پرتشددکی ہرشکل کوجڑسےہی ختم کیاجاسکے،اس ضمن میں برادراسلامی ملک ترکی(جس نے ہمارے ملک سےگندختم کرنےکاتہیہ کررکھاہے)کی مددبھی لی جاسکتی ہے ،،بےشک اس حوالے سےان کاماضی میں کوئی خاص تجربہ نہیں ،لیکن بطوربرادرملک ہم ان کوہاتھ صاف کرنےکاموقع بھی توفراہم کرسکتےہیں ناں)۔۔
آخر میں ایک اہم بات،سیمینارزیا تربیتی نشستیں اس وقت تک فائدہ مندنہیں ہوسکتیں جب تک ان سےحاصل شدہ تجاویزکوعملی صورت آزماکرنہیں دیکھ لیاجاتا۔۔اگرصرف نشستند،گفتند،برخاستندتک محدودرہےتوچائلڈابویوزکی شرح ابھی توصرف سترہ فیصدسےبڑھ رہی ہے،مستقبل میں یہ شرح سترفیصدکےحساب سے بھی نموپاسکتی ہے۔۔لہذااگرکل کواپنےخاندان کواس ذلت سےبچانا ہے توآج ہی سےعملی قدم اٹھاناہوگا ۔۔۔۔
(یہ تحریر آج سے ایک سال قبل 2015میں لکھی گئی تھی۔۔مگر یہ تمام تجاویزآج بھی اپنی اہمیت رکھتی ہیں)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s