خوشی۔۔۔۔ ایک احساس

خوشی دولت کےانبار کانام نہیں ۔۔خوشی کسی ایک روپے کے بالکل صحیح استعمال کانام ہے ۔۔
خوشی کامیابیوں کے جھرمٹ میں ہی نہیں ۔۔ ایک ناکامی کےخاتمے میں بھی چھپی ہوتی ہے ۔۔ ۔۔
خوشی کسی قیمتی کھلونے یا مہنگے سازوسامان میں نہیں ۔۔ ایک سستے سے تحفے میں بھی مل جاتی ہے۔۔۔۔
خوشی ایک بوند سے بھی مل سکتی ہے ۔۔ بشرطیکہ وہ بوند چاہت کی ندیوںسے نکل کر من کی وادیوں میں آئی ہو ۔۔۔
فرائض کے بوجھ میں دبےمزدور کو ’’حقوق ‘‘ بھی خوشی دے جاتے ہیں۔۔۔
خوشی کسی ٹھوس وجود کا نہیں بلکہ ایک غیرمحسوس ٹھنڈےاورلطیف احساس کا نام ہے جودنیاکےہرمرض کی دواہے۔۔
ٹیلی ویژن کی آمداورمعلومات کے آزادانہ ترسیل کے باعث جس طرح دنیا سمٹ کے ایک عالمی گاؤں کی صورت اختیارکرگئی ،اسی طرح تیزی سے اس دنیامیں مختلف معاشرتی ،سماجی مسائل بھی پیداہوئے ہیں ۔۔ حریص تاجروں اورپوری دنیاکےذہن کوکنٹرول کرنے خواہش مندوں کی جانب سے ٹی وی پر عالی شان گھروں، پرتعیش اشیاکی ترویج،مہنگے ملبوسات اورلگژری لائف سٹائل کوجس طرح پروموٹ کیاگیا اس نے دنیاکو مختلف النوع کی ذہنی بیماریوں میں جکڑ دیا ہے ۔۔اس میں سرفہرست ہے احساس کمتری۔۔۔۔۔
یہ احساس کمتری کئی قسم کاہے ۔۔۔ کسی چیزکےپاس نہ ہونے کابھی ۔۔۔اور اپنے پاس موجودچیزکودنیاکودکھانے کابھی ۔۔۔۔
اپنی دولت،خوبی،ملکیت کو دنیاکےسامنے پیش کرنے اوردادتحسین سمیٹنے جیسامرض کینسرکی طرح معاشرے میں سرایت کرچکا۔۔مراعات یافتہ طبقہ تو اس کا بڑاشکارہے ہی لیکن اس موذی مرض نے محروم طبقے کوبھی بری طرح متاثرکیا ہے ۔۔پہلے سے ہی نہ ہونے کی اذیت کاشکارطبقہ،آسائشوں کے حصول اوردکھاوےکےلیے بری طرح آگ میں جل اٹھتا ہے ۔۔۔ دولت کے پجاریوں کی جانب سے شروع کیے جانےوالا کھیل اس قدرخطرناک ثابت ہوا کہ دنیا کوطاعون اورایڈز سے بھی زیادہ لاعلاج اور خطرناک مرض میں مبتلاکردیا۔۔ ان امراض میں توشائدپھربھی کوئی بچ جائے ،مگر احساس کمتری بالخصوص ’’دکھاوےکی چاہ ‘‘ میں مبتلاشخص مکمل طور پر ذہنی مفلوج اورنفس کا قیدی بن کر رہ جاتا ہے ۔۔۔
میرے خیال میں خوشی ایک احساس کانام ہے نہ کہ کسی مادی چیزکا۔۔۔۔ یعنی ایسا نہیں کہ ایک قیمتی لباس ہی آپ کو خوشی کااحساس دے ،اس کی بجائے ایک صاف ستھرالباس جو اپ پر جچے وہ بھی خوشی مہیاکرسکتا ہے ۔۔ ایسے ہی لازمی نہیں کہ بڑے ہوٹل میں کھایاگیاکھانا آپ کےلیے لذت کےساتھ سکون کاباعث بنے ۔۔بلکہ اپنے دوست احباب کےجھرمٹ میں کسی ڈھابے سے کھایاگیاکھانابھی خوشی کابہترین ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے ۔۔ خوشی میں دولت کا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ اندرکے اطمینان سےجڑی ہے ۔یہ اپنے رب کی احسان مندی اورصبرشکرکےاحساس سے جڑی چیز ہے ۔۔۔ ایک قانع غریب مزدور ایک ارب پتی حریص کی نسبت زیادہ پرسکون شب و روز بسرکرتا ہے ۔۔
فی زمانہ قناعت پسندی دنیا کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے ۔۔یہ نہ صرف دنیامیں راحت کاباعث ہےبلکہ آخرت میں کامیابی کےحصول میں معاون بھی ہے ۔۔ یہ نہ صرف خدا کی عنایت بلکہ یہ شیطان کی ناکامی کاسبب بھی ہے ۔۔
مگرنفسانفسی کےاس دورمیں  خوشی جیسابنیادی  احساس بڑی تیزی سے کم ہوتا جارہاہے اوراس کی جگہ مایوسی اوردکھ لے رہ ےہیں۔۔۔ محض دکھاوے کےلیے خود پرطاری کردہ بوجھ نے بڑے سے بڑے متمول کی کمرتوڑرکھی ہے ۔۔۔  حرص وہوس کادل ودماغ پر قبضہ  مضبوط ہوتاجارہاہے۔۔ بےسودچیزوں کےلیے اپنی زندگیاں تک داؤپرلگادی ہیں ۔۔ خوشی کے چھوٹے چھوٹے لمحوں کو نظراندازکرکے جھوٹی شان وشوکت کےلیے اپنی زندگی برباد کی جارہی ہے ۔۔۔

یہ انسان کی ہار ہے ۔۔۔ یہ انسانیت کی ہار ہے۔۔۔یہ اخلاقیات کی ہار ہے ۔۔۔۔۔۔یہ مذاہب کی ہار ہے ۔۔

خوشی کو بڑے گھر،پرتعیش اشیاء،مہنگے ملبوسات اور قیمتی آلات سےناپنے کی بجائے حاصل مواقع سےبھرپورفائدہ اٹھانے اور قلبی اطمینان کےذریعے ناپاجانا چاہیے ۔۔۔۔۔

زندگی کےاتارچڑھاؤمیں اپنی شخصیت کو کھونا ایک نہایت تکلیف دہ اورنقصاندہ عمل ہے۔۔ ایسا کرنا شکست  کے مترادف ہے ۔۔ ڈٹے رہنا ہی اصل جیت ہے ۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s