مجھ پہ لعنت

یہ ہے مملکت خداداد۔۔کلمہ جس کی بنیادہے۔۔۔مذہب کےلیے حاصل کیاگیا ملک ۔۔۔اورحالت یہ کہ  مذہب کے انتہائی جزاخلاقیات سے بالکل بےبہرہ  ہوتاجارہاہے۔۔۔بیس کروڑسےزائدانسان اس میں بستےہیں ۔۔مگر تف کہ حکمرانی کےلیے جانورکوچناجاتا ہے ۔۔(اپ شیرکامت سمجھیں ،،خدا کی قسم گدھے کی بات کی ہے)
یہ ایسا ملک کہ جہاں جاگیردار کابیٹا عوامی لیڈرکہلاتا ہے ۔۔۔ فوجی حکمران حقیقی جمہوریت اورآزادی اظہاررائے کاکریڈٹ لیتا ہے ۔۔ اور شرابی ،کبابی ہمیں اخلاق و مذہب کی تعلیم دیتے ہیں۔۔۔
یہاں وسائل ہیں کہ بے پناہ ۔۔ مگرمسائل ایسے کہ اللہ کی پناہ۔۔۔۔۔۔
کرپشن ، چوری ،بےشرمی، بےحسی،کوتاہ اندیشی ،لالچ تو جیسے ڈی این اے کاحصہ بن گئی۔۔
ایک طرف  معیشت کی تباہ حالی ،افراط زر ، مہنگائی ،بےروزگاری،افراط زرمیں اضافہ ۔۔۔بھوک ننگ ہے ۔۔غربت ایسی کے باپ جانیں دے رہے۔۔۔مائیں بچے فروخت کرنے پر مجبور۔۔۔
دوسری طرف ہردوسرے روز کسی نئی فوڈ چین کاافتتاح ۔رنگ برنگی عمارتوں میں بے پناہ اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔۔ریسٹورانٹس دیکھیں تو میلے کاسماں لگتا ہے ۔۔سینماگھروں کی آبادی بھی بے قابو۔۔۔۔برانڈزکےنام پر سستامال منہ مانگےداموں خریدنے پر ہرکوئی تیار ۔۔۔ پرکسی بھوکے کاپیٹ بھرنے کاکسی کوخیال نہیں ۔۔

میں ایک ایسے ملک کا باسی ہوں کہ جہاں دعوے بہت ہیں ۔۔خواہشات بھی بہت بلندہیں ۔۔ مگر عملیت پسندی کوکوئی وجود نہیں ۔۔ کتابی تقریریں کرنے والے بہت ہیں۔۔ عمل کرنے والے ناپیدہوتے جارہے  ۔۔
ہماری قوم کاایک المیہ بڑھک بازی بھی ہے ۔۔۔
دنیاکی بہترین اجناس اورپھل پیدا کرنے کا دعوی کرتے ہیں  ۔۔۔ مگرمعدودےچند،کوئی خریدنے کو تیارنہیں
کہتے ہیں نیلی راوی بھینس دودھ کےلیے دنیابھرمیں مشہور ۔۔۔۔۔ ایکسپورٹ چھوڑیں اپناپوراکرنےکےلیے ”اچھاملک فیکٹریاں”لگانی پڑرہی ہیں۔۔
ہم گندم کی پیدوار میں ساتویں نمبرپرہیں ۔۔۔۔ اور حال یہ کہ ہردوسرے برس قیمتیں بڑھانے کےساتھ ساتھ امپورٹ کرناپڑجاتا ہے ۔۔
دنیاکی بہترین فوج ہماری ۔۔ سپہ سالار ہمارا ۔۔خفیہ ایجنسی ہماری ۔۔۔
اور حال یہ کہ دشمن گھرمیں گھس کر مارگئے ۔۔۔ اورہم ٹکورکرتےرہ گئے
ایک نجی تربیت یافتہ  دہشتگرددستہ جی ایچ کیو میں گھس جاتاہے۔۔۔ ایک شخص نمبرون خفیہ ایجنسی کے ایک دفترکوسرےسےنابودکردیتا ہے ،،دہشتگرددوسرے پربھی کاری وار کرجاتے ہیں ۔۔ ۔۔۔ ملک کی اہم دفاعی تنصیبات پرباآسانی قبضے کرلیتے ہیں،،، ائیربیس میں گھس کرکھربوں کانقصان کرکے ٹارگٹ حاصل کرتے ہیں اور ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فاتح ہونے کی بڑھک بازی سے باز نہیں آتے۔۔۔
دانشوروں سے اٹے اس ملک میں اجتماعی شعورنامی کوئی چیزنہیں پائی جاتی ۔۔سماجی حالات ایسے کہ بےحسی اورخودغرضی جیسی برائیاں تیزی سے پنپتی جارہی ہیں۔۔
شرفاکےکھیل میں جواری گھس جاتے ہیں۔۔

دینی تعلیمات کےلیے ہم نگارخانوں سے “علما”امپورٹ کرتے ہیں۔۔

ناخواندگی نے بےچارگی کی حدوں تک پہنچا دیاہے۔۔

پیٹ کی آگ اوروقتی مفادات کے پیچھے لگ کر ایک قوم ہجوم میں تبدیل ہوچکی ہے۔۔بطور معاشرہ ارتکازکی صلاحیت کھوبیٹھے ہیں ۔۔۔مسائل پر اجتماعی رائے نہ ہونے اورجہالت  ہمیں ایک بلیک ہول میں لےکرجارہی ہے۔۔اور بجائے سنبھلنے کہ ،ہماری اسپیڈاس معاملے میں روز بروزبڑھتی جارہی ہے ۔۔۔

ایک طرف لاشوں کے انبار لگتے جارہےہیں اور دوسری طرف حالت یہ ہے کہ قوم ”ویری سیڈ” سے آگے نہیں سوچ پارہی ۔۔
دنیاکی نمبرون خفیہ ایجنسی رکھنے کادعوی کرنے والےملک کی حالت یہ کہ ملک کی دفاعی لائن پرغیرملکی بالخصوص دشمن ملک کےایجنٹوں نے قبضہ کرلیا اورکسی کوکانوں کان خبر تک نہ ہوئی ۔۔۔ (یاپھر پیسے لیکر شائدخودہی علاقہ ان کو لیز پردیاگیا)
ایک طرف دہشتگردمذہب انسانیت کوتاراج کرنے میں مصروف ۔۔ فوجیوں کی لاشیں بچھائیں ۔۔مساجداڑائیں ۔گرجےجلائے۔۔سکول کے بچوں تک کو نہ چھوڑا ۔۔
دوسری طر ف یہ حالت کہ قوم ابھی تک انہیں دہشتگردیامجاہدین قراردینے کی کشمکش سے نہ نکل پائی
بزعم خوددنیاکی بہترین فوج کو اپنی ہی دفاعی لائن میں گوریلاجنگ کاسامنا ۔۔۔ قیام پاکستا ن کے بعد کبھی اتنانقصان نہ ہوا جتنا اس گوریلاجنگ میں کچھ برسوں میں ہوگیا ۔۔ پھربھی فاتح ہونے کی دعویداری نہ گئی ۔۔۔

یہ بےحسی ہی ہے کہ ہمارے بچےدرندگی کاشکارہوتےہیں اورہم  اصلاح معاشرہ کی بجائے اپنادروازہ بندکرنے کوترجیح دینےلگتے ہیں ۔۔بجلی کاکرنٹ لگنے سے ہلاکتیں ہوتی ہیں اورہم جلی سڑی لاشیں دیکھ کراسباب کاسدباب کرنے کی بجائے اگلی لاش کاانتظارکرنے لگتےہیں۔۔۔ہماری بستیوں  میں بےہنگم لٹکے بجلی کےتاریں حقیقت میں ہماری بےحسی اورجہالت کامنہ چڑاتا ثبوت ہیں ۔۔۔

 

پہلے سیاستدان کامعیار جیل جانا طےتھا ۔۔ اب عسکری ونگز کےبغیرکوئی جماعت نہیں ۔۔۔

پہلے بات صرف کرپشن تک محدود تھی ،، اب تو قاتل ہونابھی اہلیت کی بنیادی  شرط قرارپایاہے۔۔۔

ان کریمینلز کو نہ صرف الیکشن جتوائیں گے بلکہ وزیربھی بنوائیں گے ۔۔۔ یہ نہ صرف عدالتوں بلکہ پاکستانی انصاف کے سسٹم کی دھجیاں بھی بکھیرتے رہیں گے اور مجرم ہونے کے باوجود وکٹری سائن بناتے فخر سے اتراتے پھریں گے ۔۔ اور ہم عوام بےبسی سے اپنی بےغیرتی کامزہ لینگے بس

معاشرے کی ان تمام برائیوں ۔۔ اس تمام زوال ۔۔تمام جہالت  اور تمام کمزوریوں کاذمہ دار میں ہوں ۔۔ میں جو معاشرے کی بنیاد ہوں ۔۔ میں جو ایک  سست الوجود،غبی،کاہل،نکما،لالچی،کمینہ اور جاہل انسان ہوں ۔۔میں  جو کوتاہ بین،مفاد پرست اورنفس کاقیدی ہوں ۔۔۔میں جوانسانیت کاقاتل ،حیوانیت پر مائل ہوں ۔۔میں جودلیل سےبےبہرہ،،تحقیق کادشمن ،،تقلیدکا قیدی  اور جدیدکامخالف ہوں ۔۔میں ہوں ذمہ دار اس سب جہالت اور پستی کا۔۔۔میں جاہل ہوں۔۔۔میں مجرم  ہوں ۔۔ میں کمینہ ہوں ۔۔ مجھے معتوب کرو۔۔مجھےسزاوارکرو۔۔۔مجھے سنگسارکرو ۔۔۔۔

بلکہ نہیں خود کو سزا کاعمل میں ہی شروع کرتا ہوں ۔۔ اور خود ہی کہتا ہوں

۔۔۔۔۔۔مجھ پرلعنت ۔۔۔

Advertisements

One thought on “مجھ پہ لعنت

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s