قانون اورانسان

دنیامیں امورریاست چلانے کےلیے سب سے عام اورمقبول طریقہ طرزجمہوریت ہے ۔۔ یہ ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں عوام میں سے ہی عوام کے حاکم چنے جاتے ہیں جو منتخب کردہ مدت تک اچھے یابرے تمام اقدامات کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔۔ بقول اقبال
جمہوریت وہ طرزحکومت ہے، کہ جس میں
سروں کوگناکرتےہیں،تولانہیں کرتے۔۔۔۔
ویسے توجمہوریت ہویا آمریت،حکومتوں کا کام امورریاست کوچلانا ہوتاہے ،،جس کےلیے آئین وقانون نامی کچھ قواعدمرتب کردئیے جاتےہیں ۔۔ ان قواعدکےاندررہ کر جوکام کیاجائے وہی صحیح کہلاتاہےاوران سےروگردانی یا ان میں حسب منشاتبدیلی برائی سمجھی جاتی ہے ۔کرپشن یابدعنوانی کی سیدھی سادھی تعریف یہ ہے کہ اپنے اختیارات کو اجتماعی کی بجائے ذاتی مفادات کےلیے استعمال کرنا ۔۔۔ فی زمانہ یہ تلخ حقیقت ماننے میں کوئی عارنہیں کہ ترقی پذیرممالک ہوں یا ترقی یافتہ،، حکمران اپنے اختیارات کو اپنے فوائدکےلیے استعمال کرنے سے ذرانہیں چوکتے ،،نچلے درجے کےاہلکاروں کی کرپشن اپنی جگہ،،مگربدعنوانی اوراختیارات کے ناجائزاستعمال کےلیے ریاست کے حاکم اعلی تک کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔۔
حکومت ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنی منشا کو قانون کےلبادے میں اوڑھ کر کچھ بھی کروانے کی طاقت رکھتی ہے ۔عوام کے پاس سوائے احکامات ماننے کے کوئی چارہ نہیں بصورت دیگرانہیں قانون شکنی یاغداری جیسے القابات دیکرمعتوب قراردیاجاتا ہے ۔۔۔ یہ ادارہ اپنے اختیارات کےبڑھانے کےلیے جن اقدامات کا سہارا لیتا ہےاسے قانون کانام دیاجاتا ہے ۔۔ اور آئے روز نت نئے قوانین کااجراکرکےاپنی طاقت کوبڑھایاجاتا ہے ۔۔ لیکن بدقسمتی سے قوانین میں اضافہ قانون شکنی میں اضافے کاباعث بنتا ہے ۔۔ بالخصوص کم خواندہ ترقی پذیرممالک میں کرپشن یا برائی کے خاتمے کےلیے بنائے گئے قوانین الٹامزید برائی یا بدعنوانی کاسبب بن جاتے ہیں ۔۔ اس کی زندہ مثالیں شادی بیاہ پر ون ڈش اوررات دس بجے تک کی پابندی جیسی چھوٹے مسئلے سے لیکر اربوں کی لوٹ مار کرنےوالوں کےلیے قائم کردہ نیب کے پلی بارگیننگ سسٹم ہیں ۔۔اس سسٹم نے نہ صرف مجرموں کو مزیداطمینان بخشا ،،بلکہ ملک میں کرپٹ افرادکی تعدادمیں اضافے کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی۔۔ محکمے کےافسران بھی بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے میں پیچھے نہیں رہتے ۔۔
دنیامیں قوانین گاہے بگاہے تبدیل ہوتے رہتےہیں، یہ رسوم و رواج جیسے نہیں ہوتے جنہیں بدلانہ جاسکے ،،،مگر ترقی پذیرممالک میں عموماً نئےقوانین بنانازیادہ مروجہ طریقہ ہے بجائے پرانے اورفرسودہ قوانین میں تبدیلی یا ان سے چھٹکارا پانا ۔۔۔ پاکستان میں پولیس ایکٹ اس حوالے سے ایک بہترین مثال ہے کہ جو 1932کےہندوستانی آئین کے تحت انگریز سرکار نے بنایا ،اورپاکستان جیسا آزادملک اس غلامانہ ایکٹ کو 2002تک چلاتا رہا۔۔ اس کےعلاوہ بھی کافی قوانین ہیں جوفی زمانہ اپنی افادیت کھوچکےمگر انہیں بدلنے کی کوشش تک نہیں کی جاتی ۔۔ قانون سے ہٹ کر دفتری امورنمٹانے کے طریقہ کار تک کی فرسودگی دورکرنے کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی ۔۔اگر کبھی کسی سرکاری دفترجانے کااتفاق ہوتو یقینااپ کو ’’فرسودہ‘‘کا اصل مطلب معلوم ہوجائیگا۔۔
بات حکومت اور طاقت کی ہورہی تھی جس کے اظہار کاذریعہ انتظامیہ ہے جس کی طاقت مروجہ قوانین ہوتے ہیں ۔۔قوانین پرعمل ہی دنیامیں مہذب ہونے کی کسوٹی سمجھاجاتا ہے لیکن جو قوانین عوام دشمن یا تکلیف میں مبتلاکرنےوالےہوں کیاان پرعمل بھی کسی صورت مہذب یاترقی یافتہ کہلاسکتاہے؟؟؟
تعلیمی طورپرپسماندہ ممالک میں عموماقوانین کوانسان پرفوقیت دی جاتی ہے ،، اور تکلیف دہ ہونے کے باوجودبھی اکثرقوانین کوتبدیل یااس میں ترمیم نہیں کی جاتی ۔۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہمارے ملک کے ٹریفک قوانین ہیں ۔۔ یہاں سڑک پرگاڑی یا موٹرسائیکل چلاتے وقت چالان کےلیے تقریبابیس قسم کی خلاف ورزیاں وضع کی گئی ہیں ۔جن میں سے کچھ ہمارے ملک میں ’’ان فٹ‘‘ ہیں ۔۔ جیسے ایک موٹرسائیکل پر تین کاسوار ہونا ،،اس سے بائیک کوتوکچھ نہیں بگڑتاتاہم وارڈنزکےتیوربگڑجاتےہیں ۔۔ اس ضمن میں بےچارےڈرائیورکوجرمانہ کردیاجاتا ہے ۔۔ میرے نزدیک پاکستان جیسے ترقی پذیرممالک میں کم سے کم یہ قانون نہیں بنایاجاناچاہے کہ یہاں کم آمدنی اور زیادہ آبادی کے باعث یہ گناہ اکثرہوتارہتاہے ۔ اسی طرح دوسری مثال ہیلمٹ کے استعمال کی ہے کہ گرمی اورحبس کے موسم میں اکثرادھیڑعمرافرادہیلمٹ استعمال نہیں کرپاتے اوراسی بنیادپر اکثر’’خزانہ بھرؤ‘‘مہم کاشکار بن جاتےہیں ۔۔میں کوئی قانون دان نہیں اس لیے زیادہ قوانین کاعلم نہیں ،مگر اگرتھوڑا مطالعہ کیاجائے تو ایسے کئی قوانین سامنے آجائیں گے جو یاتومکمل خاتمے یاجزوی طورپرترمیم کے متقاضی ہیں ۔۔ اب جب ہمارے ملک میں زور شورسے انقلاب کی باتیں ہورہی ہیں اور کوئی دن نہیں جاتا جب انقلاب کی آئندہ تاریخ دیدی جاتی ہے تو ایسے میں میں امیدکرتاہوں کہ ایک دن یہ انقلاب ملکی آئین کو بھی اپنی لیپٹ میں لےگااوراسے صحیح معنوں میں عوام دوست بنادےگانہ کہ حکمران دوست ۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s