جشن کس بات کا؟؟؟؟؟

ایک پرانی تحریر ۔۔۔ جو شائد ابھی تک کارآمد ہے (سولہ دسمبر2014کےتناظرمیں لکھی گئی تحریر)۔۔

لگ بھگ ایک ڈیڑھ عشرےسےپاک وطن خبیث بطن قوتوں کےناپاک عزائم کاشکارہے۔۔دہشتگردی کےخلاف جنگ کےنام پرشروع ہونےوالےسلسلہ تھاتودنیاکومحفوظ بنانےکےلیےلیکن اس نےہمارےگھرکوغیرمحفوظ کردیا،،اس نام نہادجنگ میں سب سےزیادہ نقصان ہمیں اٹھاناپڑا،حتی کہ اس کوشروع کرنےوالےبھی کب سے توبہ تائب ہوکراپنےگھروں کولوٹ گئےلیکن ہم بدستوراس جنگ کے”آفٹرشاکس”برداشت کررہےہیں۔۔اس تمام عرصےمیں تین حکومتیں اورپانچ حکمران بدل گئےلیکن نہ بدلےتوہمارےنصیب۔۔۔اب تک دہشتگردی کےچھوٹےبڑےسینکڑوں واقعات میں لگ بھگ پچاس ہزارسےزائدمعصوم افرادکوزبردستی جنت بھیجاجاچکا ہےاوریہ سلسلہ بدستورجاری ہے ۔۔۔ اس صورتحال پرقابوپانےکےلیےہمارےحکمرانوں اورقانون نافذکرنےوالےاداروں کاکردارکھلنڈرےنوجوان کاساہےجسےکل کی کوئی فکرنہیں ہوتی۔۔سرپرپڑی تومنہ بسورلیا،گزرگئی توبھول گئے۔۔ایک شیرقسم کے وزیراعظم اور19باکمال وزراء کی موجودگی کےباوجودبھی ہماراحال یتیموں جیساہے ۔۔ جس کادل چاہاتھپڑماردیا،جس کاموڈ ہوا تو گھرمیں گھس کراودھم مچادیا۔۔اورجواب میں ہم صرف ایک ہی کام کرپائے۔۔۔ لب سی کر احتجاج۔۔۔ایسااحتجاج کےاگلےبندےکوآوازسنائی تک نہ دے،اوراگربات کسی صورت پہنچےبھی تو مزاج پرگراں نہ گزرے۔۔۔ایساکرکےشائداپناسوفٹ امیج قائم رکھنامقصودہوتاہے،مگرشائدوہ یہ بات بھول گئےکہ زیادہ میٹھابننابھی خودکےلیےخطرہ ہے،کہ لوگ باآسانی نگل لیتےہیں۔ دہشتگردی کےخلاف جنگ ہویاکوئی بھی قومی مسئلہ ،ہمارا فوکس کسی بھی چیز پرنہیں ہے ۔۔۔جب سر پرپڑتی ہےتوفوراًچیخ وپکارشروع کردی جاتی ہے اور ڈنگ ٹپاؤپولیسی کے تحت مسئلےکےحل نکالےجاتےہیں لیکن جیسےجیسےوقت گزرتاہے،مسئلےکویکسربھلاکراگلےسانحےکاانتظارکیاجاتاہے ۔۔۔ماضی کی ہزارہامثالوں کی بجائےمیں صرف تازہ ترین مثال دونگا،سولہ دسمبرکوجوکچھ ہوا وہ شائدہی کسی اورملک میں ہواہو،اس قدرخوفناک سانحےپریقیناًپورا ملک لرزکررہ گیا،132معصوم بچوں اور10اساتذہ کی شہادت یقیناًقوم پرسوگ طاری کرنےکےلیےکافی تھی ۔۔۔ اس واقعےنےہمارے حکمرانوں کوبھی پریشان تو کیااورازلی دشمن بھی وقتی طور پرساتھ آبیٹھے اوربلندوبانگ دعوے شروع کردئیے ۔۔قوم کو امیدبندھی کے شائداب کی بار ہم کسی مسئلےکےحل پر فوکس کرتےہوئےاسےختم کرکےہی دم لینگے لیکن بدقسمتی کہ ایک مرتبہ پھرایسا نہ ہوسکا۔پہلے پہل تو قومی ایکشن پلان نامی ہڈی گلےمیں پھنسی رہی ،جب وہ تھوڑی نیچے ہوئی توانتظامی “اہلیت”راہ میں روکاؤٹ بننےلگی۔۔جوں جوں وقت گزرا”نیشنل ایکشن پلان”کےاصل جوہرسامنےآناشروع ہوگئے ۔۔۔ پنجاب حکومت تو اس سلسلے میں خاصی مستعدنکلی جس نےاس پلان پر سب سے پہلے عمل کیا ۔۔۔ 5مارچ سے شروع ہونےوالاجشن بہاراں اور ہارش اینڈکیٹل شو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتاہے ۔۔حالانکہ ہم نیشنل ایکشن پلان کے بہت سے نکات سے واقف ہیں لیکن ان میں یہ نکات ہماری نظروں سے اوجھل ہی رہے ۔۔۔ شائدیہ کسی خفیہ سٹریٹجی کاحصہ ہوں جس کے تحت دہشتگردوں کو ان کےٹھکانوں سے نکالنےکےلیے”میلہ”سجایاگیاہے ۔۔۔ خیر اعلی دماغوں کی باتیں وہی جانیں ، مجھےتوبس اتناپتہ ہے کہ جب تک ہمارافوکس کسی ایک مسئلے کےمکمل حل پرنہ ہوتب تک وہ مسئلہ حل نہیں ہوتا،الٹاناسوربن جاتاہے ۔۔۔ ہوناتویہ چاہے تھاکہ یہ جشن بہاراں اورہارس اینڈکیٹل شو جیسی فضولیتا(جس کے ابھی ہم متحمل نہیں) کوموخررکھاجاتااوریہی وسائل اورتوانائی دہشتگردوں کے خاتمےکےلیےاستعمال کی جاتی ۔۔یقیناًوہ دن قوم کےلیےزیادہ جشن کادن ہوتا جس دن ہم قومی ایکشن پلان پرعمل درآمدکومکمل کرلیتے۔۔اور ہاں اگراس دوران کچھ تفریح دینی ہی تھی تو پھردفاعی قوت کےمظاہرےکااہتمام کیاجاتاجونہ صرف قوم کےذہنی وقلبی اطمینان کاباعث بنتابلکہ دشمنوں کےلیےبھی ایک تازیانہ ہوتا۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s