۔۔یو نوازیوYo Nawaz Yo۔۔

قسمت کب کسی کااتناساتھ دیتی ہے ؟؟ کیا کوئی اتنا بھی خوش نصیب ہوسکتا ہے ؟؟؟  ایک شخص جو اوائل عمری میں بھوکاننگا ہوجائے  اور بطورقلی ملازمت کرنے لگے (بابامبشرلقمان لیکس)۔۔خوش قسمتی سے اربوں بنالے،،،۔پھردوبارہ اس کا سب کچھ لٹ جائے ۔۔لیکن وہ اس کےبعدبھی   اربوں کے اثاثے محض چندبرسوں میں جمع کرلے ۔۔۔ایک کاروبار جو کچھ پیسوں اور انفرادی محنت سے شروع کیاگیا ہو ،چندہی برسوں میں پھیل کر 23بڑی بڑی صنعتوں تک پھیل جائے  (قومی بچت کے کھاتے،گلک اورگھرمیں تکیے کے نیچے رکھے پیسے الگ )۔۔۔اس قدر باصلاحیت شخص کہ  تباہ شدہ اورڈوبے ہوئے اداروں (بقول اس کے خود کے) کوبھی محض کچھ عرصہ میں دوبارہ پاکستان   کےبہترین ادارے میں بدل دے ۔۔ وہ شخص کہ  اس سمیت پورے خاندان کےافرادماں کے پیٹ سے ہی کاروبار کی خدادادصلاحیت لیکر’’معرض وجود‘‘میں آئےہوں ،صنعتیں بھی بھرپوربنالی ہوں ۔۔ کاروباربھی ترقی پرہو ۔صنعت بھی ایک سے بڑھ کر ایک ۔۔ سٹیل مل،شوگرمل،پیپرملز ،حتی کہ دودھ اور گوشت بھی  ۔۔ یہیں تک نہیں ،ملکی سیاست  میں حصہ لیا تو کونسلربننے کےشوق کے باوجودبھی پہلے ایم پی اے منتخب کرایاگیا اوروزارت بھی وہ ملی  جوازلی شوق کی تسکین کرتی ہو ۔۔۔ خزانے کی چابی ملی تو دولت بٹورنے کی باقی ماندہ سوئی ہوئی حسیں بھی یکایک  بیدارہوگئیں ۔۔شرح منافع دیکھ کر یہی کاروبارکرنے کی ٹھانی تو قدرت نے یکے بعددیگرے پہلےصوبائی پھروفاقی سطح پربھی جنرل منیجر اوہ میرا مطلب ہے حاکم اعلیٰ لگا دیا ۔۔۔پوری زندگی کامیابیوں سے عبارت شخص کایقیناًاس منصب پرپہنچنابہترین اقدام تھا۔۔ مگریہاں سےکہانی کاایک دوسرا پہلاشروع ہوا ۔۔۔۔لوہے کی بھٹی کواسٹیل ملزتک لانےوالاخاندان،ایک ادارےکو23صنعتوں میں ڈھالنے والاکنبہ  شائدخوش قسمتی سےبدقسمتی کےدورمیں داخل ہوگیا ۔۔۔۔ بطوروزیراعلی دو باریاں لینے کے باوجودبھی وزیراعظم بننے کےلیے وہی وعدے کرنے پڑے جن کی بنیادپر وزرارت اعلی سنبھالی ۔۔ وزارت عظمی میں پہنچ کر بھی تمام ترانتظامی صلاحیتیں  اور تجربہ جانے کہاں کھوگیاکہ قومی ادارے پی ٹی سی ایل، پی آئی اے ،ریلوے سمیت دیگرتیزی سےتنزلی کاشکارہونے لگے ۔۔۔ قومی معیشت کی لٹیاڈوبنے لگی ۔ادارے بیچے جانے لگے ۔۔(اللہ بھلاکرے کہ اس موقع پر اپنے کام آئے اوربےکاراداروں کوخودخریدکرگھرکی بات گھرمیں ہی رہنے دی)۔۔نوبت قوم سے امداد لینے تک جاپہنچی ۔۔۔ مگرسبحان اللہ کہ  اس قدر ابتری کےدورمیں بھی خاندانی کاروبار کواللہ نے خوب چارچاندلگائے ۔۔۔دن دگنی۔رات چوگنی ترقی کی مثال بےشک ان کودیکھ کرہی بنائی گئی ۔۔اپنے گھروں کومحلات کی شکل مل گئی۔۔دولت بڑھی تو بیرونی دنیامیں پرتعیش رہائشگاہیں بھی بنالی گئیں ۔۔(کوئی یہ نہ سوچے کہ قوم سےلی گئی امداد یہاں استعمال ہوئی ،،بالکل بھی نہ سوچے) مگر ملک کی حالت یہ کہ کوئی پتہ نہیں کس وقت ڈیفالٹ کرجائے ۔۔۔۔۔۔پہلا دور گزرا،،،حالت بری۔۔۔دوسرا گزرا،،،حالت بہت بری۔ تیسرے دورمیں بدترین حالات تک پہنچنے کے باوجودبھی لوہے جیسا عزم رکھنے والے قسمت کے دھنی شخص نے نہ کوشش چھوڑی نہ ہی اپنے وہ وعدے جواول روز سے کرتا آرہاتھا ۔۔۔(وعدے بھی ایسےکہ سبحان اللہ ۔۔  پورے کرکے بھی پورے  ہونے کانام ہی نہیں لےرہےتھے۔۔)۔۔۔چلیے چھوڑئیے ،،،بات قسمت کی ہورہی تھی  اسی پر آتے ہیں۔۔۔قسمت کی یاوری ہی کہیے کہ اس کی زیرنگین سلطنت کی ریٹنگ جتنابھی نیچےکیوں نہ جارہی ہوتی ۔۔خاندانی کاروباراوردولت  پراللہ کافضل برستا ہی رہتا۔۔۔اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ  اپنی تو چھوڑو۔۔دوسروں کی کمپنیوں میں بھی حصےنکلناشروع ہوگئے ہیں(جیسے لاٹری میں ہمارے پلاسٹک کے کھلونے نکلتے تھے)۔۔ وللہ اس قدرخوش قسمت شخص جس ملک کونصیب ہوجائے تواورکیا چاہیے ۔۔مگرہم ٹھہرے صدا کے بدنصیب اوربےادب لوگ ۔۔۔کبھی کسی کی قدراس کی زندگی میں نہیں کی ۔۔ بڑے سے بڑے لیجنڈکوبھی مرنے کےبعدہی عزت واحترام اوراس کاصحیح مقام دیا ۔۔۔یہی ہماری بدقسمتی اس مالیاتی  لیجنڈکےلیے بھی ہے کہ اس کی عزت کی بجائےپورا کاپوراملک اس کامخالف ہوا پڑا ہے ۔۔میں سب سے پرزوراپیل کرناچاہوں گاکہ اللہ کے عذاب سے ڈرو،،،کسی ’’شریف‘‘کویوں الزام نہ دوکہ وہ غیرت مند انسان  کہیں کوئی ایسا قدم نہ اٹھالے کہ بعدمیں اس کی شکل کوبھی ترس جائیں ہم ۔۔(یہ ایک موہوم سی امیدہے،یقیناًایساہوگا نہیں) ۔۔۔سوچواس قدر قابل  تاجر،انتطامی صلاحیتوں سے مالامال ،مالدار ترین شخص  اگرملک کی قیادت سے ہٹ گیاتو ہم جوپہلے ہی معاشی بدحالی اور مس منجمنٹ کی انتہاؤں کو چھورہےہیں (گو کہ بیس بائس سال اس شخص نے کوشش تو بہت کی یہ سب بدلنے کی مگر ۔۔۔اللہ کی مرضی) ہم تو شائدتاریکیوں کی گہرائی  میں ڈوب جائیں ۔۔ان کے علاوہ کوئی اور نظربھی تونہیں آتا نہ قیادت کااہل ۔۔۔ ایمانداری کا درس دیتے مولوی،،آکسفورڈ کےپڑھےلکھے یا دنیابھرمیں لیڈرشپ بارے لیکچردینے والے کیا جانیں کہ اقتدار کیا بلا ہے ۔۔ ان سے بھلاکہاں سنبھلیں گےیہ  سیاست کے ’’کت خانے‘‘۔۔بھی میں تو اپنے بھرپورہوش وحواس اور عقل دانش کےساتھ علی اعلان کہتاہوں کہ میں تو اس جوہرنایاب کو ہاتھ سے نہ جانے دونگا (خدارا مجھے کوئی پٹواری نہ سمجھے)۔۔چاہے ساری دنیا بولے گونوازگو ۔۔۔مگر میں مرتے دم تک یہی کہوں گا  ’’یو نوازیو‘‘  (یہی اس قوم کی سزابھی ہے)

 

 

 

 

 

Advertisements

One thought on “۔۔یو نوازیوYo Nawaz Yo۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s